ظالم شوہر سے جبر او قہر یا فہمائش زبانی طلاق لینا اور نفقہ کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ: زید کی لڑکی ہندہ کی شادی بکر سے ہوئی تھی ۔ چند دن مابین زوجین تعلقات اچھے رہے، ہندہ کا زوج آج تقریباً ڈیڑھ سال سے اپنی بیوی کی خیریت نہیں لیتا ہے، اور اپنی ساری چیزیں بھی اس سے لے لیا ہے۔ اس وقت ہندہ اپنے باپ کے پاس رہتی ہے، جبکہ ہندہ کا باپ نہایت ضعیف اور غریب الحال ہے، جس کے پاس کچھ سرمایہ نہیں اور ہندہ کی ماں بھی نہیں ہے۔ لہذا ایسے وقت میں ہندہ کے لئے کوئی صورت ہے؟ ۔ اس وقت بے سہارا بیٹھی ہوئی ہے اور لڑکے کے لئے شرعاً کیا حکم ہے؟ کیا ہندہ اپنے نان ونفقہ و دیگر لوازمات شرعیہ کی مستحق ہے یا نہیں؟ لمستفتی: حاجی شاہ زادے پھوالان، بریلی شریف (یوپی) معرفت مولانا بلال احمد نوری
الجواب وہ شخص نہایت ظالم جفا کار مستحق غضب جبار مستوجب نار ہے۔ ہندہ جبکہ ناشزہ نہیں ہے وہ ضرور نفقہ کی مستحق ہے، اس پر لازم ہے کہ بھلائی کے ساتھ رکھے ورنہ بھلائی سے چھوڑ دے۔ ادہر میں لڑکا نا گناہ کبیرہ ہے۔ وہ اگر از خود طلاق نہ دے تو اس سے جبر او قہر از بانی طلاق لیں یا بہ فہمائش، مہر معاف کر کے تحریری طلاق لیں۔ پھر بعد عدت جس سے نکاح جائز ہو، کر دیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی