تین طلاقیں لکھ کر دینے یا دستخط کرنے سے طلاق کے وقوع کا حکم
تین طلاقیں لکھیں یا لکھوائیں یا تین طلاقوں پر مطلع ہو کر دستخط بخوشی کئے تو تین طلاقیں واقع ہو گئیں! محترم جناب مولوی صاحب! السلام علیکم سلام کے بعد عرض یہ ہے کہ عرصہ ۸ سال کا ہوا کہ میرا نکاح عبد اللطیف صاحب سے ہوا، عرصہ ۷ ماہ کا ہوا کہ میرا اور میرے شوہر کا جھگڑا ہوا جس میں میں نے اُن سے کہا کہ مجھ کو طلاق دے دو۔ اس پر عبد اللطیف صاحب نے ہاں کہ کر لکھ دیا ۔ طلاق صحیح نتھو نے لکھی تھی ۔ اب میں کافی کمزور ہو گئی ہوں ۔ بچے بھی سب الگ رہ رہے ہیں، کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہے اور میں ان کی زوجیت میں رہنا چاہتی ہوں۔ اس معاملہ میں فرمائیں کہ کیا ہونا چاہیئے ؟ راقم الحروف: راحت یار خاں بقلم خود
الجواب: اگر عبداللطیف نے طلاق نامہ میں تین طلاقیں لکھیں یا لکھوائیں یا تین طلاقوں کے مضمون پر مطلع ہو کر دستخط بخوشی کئے تو تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور جب تک دوسرے سے نکاح صحیح ہو کر جماع کے بعد طلاق نہ ہو اور عدت نہ گزر جائے ، عبداللطیف سے نکاح حلال نہیں اور اگر تین طلاقیں نہ لکھیں تو کس لفظ سے طلاق لکھی ؟ مفصل تحریر کیجئے تو جواب ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۱؍ جمادی الاولی ۱۴۰۱ھ