شوہر منکر ہے تو محض عورت کے بیان سے طلاق کا ثبوت نہ ہوگا !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : ،، زید و ہندہ دونوں میاں بیوی میں جھگڑا ہوگیا اور زید اپنی بیوی ہندہ کو اپنے گھر سے نکال دیتا ہے اور کہتا ہے کہ : ” تو نکل جا میرے گھر سے چند بار۔ ہندہ نے بہت کوشش کی زید کے پاس آنے کی مگر زید اپنے گھر میں داخل ہونے نہیں دیتا ہے یہاں تک کہ تین دن گزر گئے بالآخر ہندہ مجبور ہوکر اپنے میکے چلی جاتی ہے اور ہندہ کا تعلق بکر سے ہو جاتا ہے۔ ہندہ کا بیان ہے کہ زید نے ہم سے آٹھ دس بار کہا کہ میں نے تم کو طلاق دے دی ۔لیکن ہندہ کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے یہانتک کہ تقریباً چار سال کا عرصہ گزرجاتا ہے پھر عمر و ہندہ کو لے کر زید کے پاس پہونچتا ہے۔ اب بھی زید وہی کہتا ہے کہ میں نے تم کو گھر سے نکالد یا ہے تیرے جی میں جو آئے تو کرلے۔ زید کا بیان ہے کہ میں نے ہندہ کو طلاق نہیں دی ہے اور ہندہ کا کوئی سر پرست بھی نہیں ہے اور نہ کوئی آمدنی جس سے وہ اپنی زندگی گزارے۔ اور زید کا کہنا ہے کہ نہ میں تم کو طلاق دوں گا نہ اپنے گھر لاؤں گا۔ لہذا اب اندیشہ ہے کہ ہندہ کہیں برے کام میں مبتلا ہو جائے یا اپنی جان ختم کر دے اور ہندہ یہ بھی کہتی ہے کہ میں زید کے پاس نہیں جاؤں گی چونکہ اس نے مجھے طلاق دے دی ہے۔ لہذا اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندہ دوسری شادی کر سکتی ہے یا نہیں؟
الجواب: جبکہ شوہر منکر ہے تو محض عورت کے بیان سے طلاق کا ثبوت نہ ہوگا۔ ثبوت طلاق کے لئے دومرد عادل یا ایک مرد و عورتیں عدول کی گواہی درکار ہے۔ مگر جبکہ عورت تین طلاق کی مدعیہ ہے تو عورت پر لازم ہے کہ وہ اسے اپنے اوپر ہرگز قابو نہ دے اور شوہر پر فرض ہے کہ وہ اسے طلاق دے کر چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی