بغیر خلوت صحیحہ کے اگر متفرق طور پر طلاق دی تو ایک طلاق واقع ہوگی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: بہن کی شادی پچھلے سال مئی کے ماہ میں ہوئی تھی ، اس کے بعد رمضان کے آخری ہفتہ میں لڑکے کے والد ہدا کے لئے آئے تو لڑ کی کی والدہ نے چاند رات کے دن کے لئے رخصتی کے لئے کہا لیکن شام کے وقت لڑکا خود آیا اور دروازہ پر آکر کہا کہ اکبر بھائی کہاں ہیں؟ ہمیں دو باتیں کرنی ہیں ۔ اکبر نے لڑکے کو اندر گھر میں بیٹھنے کے لئے کہا۔ لڑکا اندر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ ہماری رُخصتی کے لئے والد صاحب سے کیا کہا ؟ بھائی نے جواب دیا کہ ہماری والدہ نے چاند رات کو آپ کی رخصتی کے لئے کہہ دیا ہے۔ اس پرلڑکے نے کہا ہماری رخصتی ہی وقت کر نہیں تو ہم طلاق دے دیں گے۔ اس بات پر لڑکی کے بھائی نے کہا کہ ہم تمہارا منہ توڑ دیں گے ہم نے اپنی بہن کی شادی طلاق کے لئے کی تھی؟ اتنی بات پر لڑ کانے دس بارہ بار کہا: میں نے طلاق دی، میں نے طلاق دی اور کہتا ہوا بہت دور تک چلا گیا۔ اس وقت میں کئی لوگوں نے اس کی بات کو سنا۔ لمستفتی: ماسٹر رفیق احمد قادری، جھانسی
الجواب: صورت مسئولہ میں فی الواقع اگر عورت سے شوہر نے خلوت صحیح نہ کی ہو تو اس پر ایک طلاق پڑ گئی جس کے سبب وہ بلا عدت فوراً نکاح سے باہر ہوگئی ، پہلے شوہر سے خواہ جس سے چاہے، نکاح کر سکتی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ / جمادی الاخری ۱۳۹۸ھ الجواب صحیح تحسین رضا غفرلہ