بیوی کا نام بدل کر طلاق نامہ لکھنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: زیدا اپنی بیوی کو طلاق دینا نہیں چاہتا تھا مگر زید کے چند رشتہ داروں نے دباؤ ڈالا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو محض دباؤ کی بنا پر اور اس خیال سے کہ ان لوگوں کی بات بھی رہ جائے اور طلاق بھی واقع نہ ہو۔ زید نے یہ مضمون لکھ دیا کہ میں خد اور سول کو حاضر و ناظر جان کر صحیح ہوش وحواس میں رہ کر ہندہ بنت بکر کو طلاق مغلظہ یعنی تین طلاق دیتا ہوں۔ لیکن زید کی بیوی کا ہندہ نام نہیں ہے۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: اگر یہ صورت واقعہ ہے تو طلاق نہ ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم مفتی کا کام حکم شرع ظاہر کرنا ہے اور حکم خدا کا ہے جو تبدیل بیان سے نہ بدلے گا۔ وما علینا الا البلاغ ! فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۵ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۶ · صفحہ ۴۹۲
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
نابالغ کی طلاق شرعا واقع نہیں ہوتی
باب: کتاب الطلاق
طلاق شرط پر معلق کی اور شرط پائی گئی تو طلاق ہو گئی !
باب: کتاب الطلاق
طلاق رجعی میں عدت کے اندر رجعت اور عدت گزرنے کے بعد نکاح جدید کا حکم
باب: کتاب الطلاق
بیوی کو تین طلاقیں دینے کے بعد ڈرانے دھمکانے کی نیت کا شرعی حکم
باب: کتاب الطلاق
بغیر خلوت صحیحہ کے اگر متفرق طور پر طلاق دی تو ایک طلاق واقع ہوگی
باب: کتاب الطلاق