طلاق شرط پر معلق کی اور شرط پائی گئی تو طلاق ہو گئی !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید نے بکر کے ہاتھ ایک سامان بیچا بکر نے روپیہ کی ادائے گی میں سے مبلغ تین روپیہ روک لیا باقی رقم بکر نے ادا کردی۔ زید تین روپیہ لینے کے لئے بکر کے گھر متعدد مرتبہ گیا لیکن بیکر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ایک دن زید بکر کے گھر گیا جبکہ بکر گھر میں موجود نہ تھا ان کے پڑوسی موجود تھے ، ان کے سامنے زید غصہ میں آکر یہ کہہ دیا کہ میں ان سے روپیہ ضرور وصول کروں گا اگر نہیں وصول کیا تو جور وکو طلاق۔ زید یہ کہ کر گھر واپس آ گیا۔ چند دن بعد زید نے اپنی سکونت تبدیل کر لی۔ جبکہ آج تقریباً پینسٹھ برس کے بعد زید کو یاد آیا کہ میں نے ایک موقع پر ایسا ایسا کہا تھا ( جور وکوطلاق ) ۔ نیز زید کو یہ پتہ ہے کہ بکر مر گیا ہے۔ اس مسئلہ میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ المستفتی: عنایت حسین خاں، ساکن قصبہ اچھا ضلع بریلی (یوپی)/ ۶ /جنوری ۱۹۷۸ء
الجواب: صورت مسئولہ میں جبکہ طلاق زید نے اس شرط پر معلق کی اور شرط پائی گئی تو طلاق ہو گئی۔ اور صورت مسئولہ میں طلاق رجعی کا حکم ہے۔ جبکہ ایک طلاق بہ لفظ صریح معلق کی ہو۔ اگر قول یا فعل سے عدت میں رجعت کر لی ہو تو رجعت ہو گئی اور نکاح کی حاجت نہیں۔ ورنہ تجدید نکاح کرے اور احوط یہی ہے کہ تجدید نکاح کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله