بیوی کا طلاق ثلاثہ کا دعویٰ اور شوہر کا حلفیہ انکار
بھلائی کے ساتھ رکھنا مستعد رہو جائے تو چھوڑ نا متعین ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: میاں بیوی میں جھگڑا ہوا اور مار پیٹ تک ہو گئی ، بیوی ناراض ہو کر فورا اپنے والدین کے گھر چلی گئی اور اس نے سب کے سامنے قسم کھا کر بیان دیا کہ مجھے مار کر نکال دیا ہے اور مجھے تین بارطلاق دے دی ہے۔ اس موقع پر لڑ کا اور اس کے ماں باپ اور بہنوئی موجود تھے، جب لڑکے اور اس کے ماں باپ سے معلوم کیا تو لڑکا اور اس کے ماں باپ تینوں آدمی قسم کلام مجید کی کھا کر کہہ رہے ہیں کہ لڑکے نے طلاق نہیں دی ہے۔ ایسی حالت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ تحریر فرمایا جاوے کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟ جواب دیں! المستفتی: رحمت اللہ متولی مسجد، اعظم نگر، بریلی
الجواب: واقعی اگر شوہر نے تین طلاقیں دیدی ہیں تو عورت اس پر حرام ہے اب کبھی ہے حلالہ حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ بعد جماع جب طلاق دے دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو بعد عدت عورت پہلے سے نکاح کر سکے گی۔ مگر جبکہ شوہر منکر ہے تو طلاق بغیر گواہان شرعی کے ثابت نہ ہوگی۔ ہاں البتہ عورت اگر سچی مدعیہ ہے تو اس پر لازم ہے کہ اپنے او پر شوہر کو قابو نہ دے اور اس سے دور رہے اور اب شوہر کو طلاق دے دینا چاہئے۔ اگر چہ واقعتا پہلے نہ دی ہو کہ بھلائی کے ساتھ رکھنا مستعد رہو گیا تو چھوڑ نا متعین ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۴ رشوال المکرم ۱۳۹۸ھ