محض عورتوں کے بیان سے حکم طلاق نہ ہوگا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید اور اس کی بیوی میں گھر یلو کچھ تنازعہ ہوا جس وقت زید اور اس کی بیوی میں جھگڑا ہوا کوئی مرد یا عورت وہاں موجود نہ تھے، زید جب دوکان پر چلا گیا تو کچھ عورتوں نے کہا کہ زید نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے۔ زید سے بلا کر معلوم کیا تو اس نے بتایا کہ میرا جھگڑا آپس میں ضرور ہوا ہے لیکن میں نے طلاق نہیں دی ہے۔ کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہو گئی ؟ جبکہ زید بھی اقرار نہیں کرتا اور نہ کوئی شرعی یا غیر شرعی موقع کا گواہ ہے۔ جواب سے سرفراز فرمایا جاوے تا کہ اس پر عمل کیا جاوے۔ فقط ! چودھری عبدالحق ، موضع بکری ضلع شاہجہانپور
الجواب: ثبوت طلاق دو مرد عادل یا ایک مرد و دو عورتوں (عدول) کے بیان سے ہوتا ہے۔ جبکہ زید کا طلاق دینا گواہان شرعی سے ثابت نہیں تو محض عورتوں کے بیان سے حکم طلاق نہ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم لیکن فی الواقع اگر زید نے طلاق دی ہے تو اس پر لازم ہے کہ نہ چھپائے کہ چھپانے سے حکم خدا نہیں بدلتا بلکہ وبال دو ہرا ہوتا ہے۔ لہذا اگر اس نے تین طلاقیں دی ہوں تو عورت اس پر حرام ہے، بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی ! فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۶ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ