عورتوں کی گواہی اور شوہر کے اقرار پر طلاق کے ثبوت کا حکم
سوال
تھا۔ پھر دو عورتوں نے جا کر زید سے معلوم کیا کہ تم نے ایسا کہا؟ تو زید نے کہا ہاں میں نے کہا۔ لہذا ایسی صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: فی الواقع اگر زید نے اپنی بیوی سے طلاق کے لفظ کہے تو جتنی اور جیسی طلاقیں دیں، اس پر اتنی اور ویسی طلاقیں واقع ہو گئیں مگر طلاق کا ثبوت محض عورتوں کے بیان سے نہ ہوگا جبکہ شوہر منکر ہو، جب تک کہ دو مرد عادل یا ایک مرد عادل اور دو عورتیں عدول گواہی نہ دیں۔ لیکن عورت نے اگر خود الفاظ طلاق سنے تو اس پر فرض ہے کہ وہ شوہر سے ایسی بھاگے، جیسے شیر سے، جیسے سانپ سے ۔ اور اسے ہرگز اپنے اوپر قابو نہ دے۔ الفاظ طلاق لکھ کر دوبارہ سوال کیا جائے ۔ تب جواب دیا جائے گا کہ طلاق کیسی اور کتنی ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۷ محرم الحرام ۱۳۹۶ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۶ · صفحہ ۵۰۱
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
شوہر کے ان الفاظ کہ میں نے اپنی بیوی کا فیصلہ کر دیا ہے سے طلاق کا حکم اور رجوع کا طریقہ
باب: کتاب الطلاق
زبردستی طلاق کے مطالبے اور غیر مسلم یا قریبی رشتہ دار کی گواہی کا مسئلہ
باب: کتاب الطلاق
محض عورتوں کے بیان سے حکم طلاق نہ ہوگا
باب: کتاب الطلاق
بار بار فرار ہونے والی بیوی کا حکم !
باب: کتاب الطلاق
حلالہ کے لئے نکاح صحیح اور جماع شرط ہے!
باب: کتاب الطلاق