بغیر طلاق کے دوسرے مرد سے نکاح کرنا کیسا!
جناب قبلہ وکعبہ اعلیٰ حضرت ! السلام علیکم غلام ناچیز کی گزارش ہے کہ میرے محلے میں ایک نوجوان عورت رہتی ہے، شادی اس کے والد نے کر دیا تھا، تقریباً / یا ۸ سال کا عرصہ ہوا۔ صرف ایک مرتبہ سسرال گئی ہے۔ دوبارہ اس کا شوہر نہیں لے گیا۔ شوہر نے اپنی دوسری شادی کر لی ہے وہ عورت اپنے والد کے پاس رہتی تھی، والدہ کا انتقال بچپن ہی میں ہو گیا تھا اب اس کے والد کا بھی انتقال ہو گیا ہے قریب ایک ماہ کا زمانہ ہو گیا۔ اب اس عورت کو کھانے پینے کی تکلیف ہوتی ہے۔ شوہر سے بھی کوئی مطلب نہیں ۔ وہ عورت دوسرا نکاح کرسکتی ہے یا نہیں؟ فوراً اطلاع کیجئے جس سے یہ غلام ناچیز کچھ انجام دے۔اسکے والد کے پاس بھی کوئی جائیداد یا مکان نہیں ہے، محلہ کی مسجد کا پیش امام ہوں ، اہل محلہ والوں سے یہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ مولوی صاحب یہ کسی غیر کے ساتھ جانے والی ہے، صرف تکلیف کی وجہ سے اس کا انتظام کر دیجئے ۔ جب میں آپ کے
پاس لکھ رہا ہوں ۔ فقط السلام علیکم ورحمتہ اللہ ! الجواب: المستلتي: غلام على بشر لکھنو نہیں جب تک کہ طلاق ہو کر عدت نہ گزر جائے۔ شوہر پر بھلائی سے چھوڑ دینا فرض ہے۔ اس سے ہر ممکن صورت طلاق لینے کی کی جائے۔ یہ خوشی نہ دے تو جبر از بانی طلاق لی جائے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، بریلی شریف