تین طلاق والی بغیر حلالہ شوہر اول پر حرام
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کے گھر میں زید کے والد اور بیوی میں لڑائی ہو رہی تھی۔ زید کھیت پر سے آیا اور دروازے پر کچھ دیر کھڑارہا پھر گھر میں آیا تو کافی لڑائی ہو رہی تھی ۔ تو زید کو غصہ آیا اور اپنی بیوی سے بولا کہ میرے گھر سے نکل جاؤ۔ زید کی بیوی گھر سے نہیں نکلی ۔ زید نے پھر ڈنڈا اٹھایا تو وہ باہر آ گئی۔ زید نے کہا کہ میں طلاق دے دوں گا۔ زید کے والد نے منع کیا۔ زید نے غصہ میں آکر طلاق دے دی، طلاق دی، طلاق دی ، طلاق دی۔ زید نے زور سے کہا۔ باہر لوگ سن رہے تھے۔ اس کے بعد زید کی بیوی ایک مدت دوسرے کے مکان میں رہی۔ زید کی پھوپھی نے اس کو لے کر زید کے گھر پہونچادیا۔ زید نے اپنا پردہ کھینچ لیا پھر زید کے ساتھ والوں نے مشورہ کر کے عدت کے بعد کہا کہ اب آپ حلالہ کر لو اس کے بعد آپ دونوں اپنا نکاح کر لیں۔ بیوی نے حلالہ کرنے سے منع کر دیا اور کہا کہ میرے گلے سے رسی نکل گئی ہے۔
دوبارہ مت ڈالو۔ اس پر زید نے کہا اب ہم کو بھی دوبارہ نکاح نہیں کرنا ہے۔ زید اور زید کا ساتھی گاؤں کے ایک حاجی جی کے پاس گئے اور اپنا یہ مسئلہ رکھا۔ حاجی صاحب نے زید کی بیوی کو بلوایا اور سمجھایا کہ اب آپ حلالہ کر لو۔ زید کی بیوی نے منع کر دیا۔ بیوی اس پر تیار نہیں ہے۔ اب زید نے فتوی منگوایا کہ میں نے طلاق دی مگر دل سے نہیں یہ بات آج تک کسی گاؤں والے سے نہیں کہی تھی ۔ اب آپ جواب سے نوازیں۔ شریعت کا کیا حکم ہے؟ فقط ، خدا حافظ ! الجواب: مستفتی: حاجی عبدالرحمن، موضع پشہ کلاں، کمبر یا ضلع پیلی بھیت زید پر اس کی بیوی حرام ہوگئی۔ بے حلالہ اسے ہرگز کبھی حلال نہ ہوگی۔ زید اور اس عورت پر فرض ہے کہ ایک دوسرے سے فورا علیحدہ ہو جائیں ورنہ مبتلائے اشد حرام رہیں گے اور دونوں پر تو بہ فرض ہے۔ ورنہ ہر واقف حال انہیں چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۲۵ / جمادی الاخری ۱۴۰۴ھ