ایک نشست کی تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیں!
سوال
مفتی اعظم ہند مدظلہ العالی! (۱) زید نے ایک لڑکی سے نکاح کیا۔ محلہ کے لوگوں نے زبر دستی طلاق دلوایا۔ زید نے اپنی زبان سے ایک نشست میں تین طلاق دے دی۔ اور تحریر شدہ طلاق نامہ پر دستخط بھی کیا۔ عورت پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ (۲) زید کا نکاح ہوتے ہی دوروز کیلئے پولیس کی حراست میں چلا گیا، چھٹکارا پا یا تو فورابعد محلہ والوں نے طلاق دینے پر مجبور کیا تو طلاق دے دیا اور خلوت صحیحہ نہیں ہوئی تو زید کے لئے مہر کا کیا حکم ہے؟ اور اس مطلقہ عورت پر عدت لازم ہے یا نہیں؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: (1) تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں ۔ درمختار میں ہے: يقع طلاق كل زوج بالغ عاقل و لو مكرها ملخصا ) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) شوہر نصف مہر دے اور اس صورت میں عورت پر عدت لازم نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۶ · صفحہ ۵۱۳–۵۱۴
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
تین طلاق والی بغیر حلالہ شوہر اول پر حرام
باب: کتاب الطلاق
طلاق کا ثبوت به صورت انکار شوہر گواہان شرعی کی شہادت شرعیہ پر موقوف ہے!
باب: کتاب الطلاق
جبر و اکراہ کے ذریعہ طلاق کا حکم؟
باب: کتاب الطلاق
غیر مضاف الفاظ طلاق اور نیت کے اعتبار سے وقوع طلاق کا حکم
باب: کتاب الطلاق
بغیر طلاق کے دوسرے مرد سے نکاح کرنا کیسا!
باب: کتاب الطلاق