مسجد کے اندر اذان دینے کی شرعی ممانعت اور وجہ کراہت
(۵) اندرون مسجد اذان مکروہ تحریمی ہونے کی کیا وجہ ہے؟۔
(۵) حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور خلفائے راشدین و تابعین عظام و جملہ سلف کرام بلکہ ہر زمانہ میں اذان بیرون مسجد حد ود مسجد میں ہوئی اور کبھی منقول نہ ہوا کہ کسی مقتدائے دین نے کبھی کوئی اذان اندر کہی یا کہلوائی ہو اسی لئے تمام علماء بیک زبان اذان واقامت کا محل جدا گانہ بتاتے ہیں۔ ہدایہ وغیر ہ عامہ کتب میں ہے: و المكان في مسألتنا مختلف (1) فتح القدیر کے تحت ہے: یفید کون المعهود اختلاف مكانهما وهو كذالك شرعاً والاقامة في المسجد ولابد و اما الاذان فعلى المئذنة فان لم يكن ففي فناء المسجد وقالوالا يؤذن في المسجد “(۲) تو اذان بیرون مسجد حدود مسجد میں ہونا سنت نبویہ و طریقہ جملہ مسلمین ہے اور طریقہ مسلمین کی اتباع ضرور ۔ درمختار میں ہے: لان المسلمين توارثوه فوجب اتباعهم (۳) پھر ایسی سنت نبویہ جس کو ہمارے نبی علیہ السلام نے کبھی ترک نہ کیا ہو، واجب کا حکم رکھتی ہے کہ عدم ترک دلیل وجوب ہے۔ کما صرح بہ فی فتح القدیر (۴)۔ اور واجب کا ترک مکروہ تحریمی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم