نماز اشراق کے ثواب پر فجر کے بعد صلوۃ و سلام کا اثر
سوال
(۲) بہار شریعت، ۷ / ۱۴ / پر نماز اشراق کی حدیث پاک ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بعد جماعت فجر ذکر خدا میں لگا رہے یہاں تک کہ آفتاب بلند ہو جائے تب نماز اشراق ادا کرے۔ بعض مساجد اہل سنت میں بعد جماعت فجر فور أصلوۃ وسلام ہوتا ہے اس میں شرکت کے بعد کیا ثواب نماز اشراق سے محروم ہو جائے گا ؟ اور کیا اس صورت میں حدیث پاک پر عمل ہو سکے گا؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
(۲) نہیں کہ صلوۃ و سلام بھی ذکر الہی ہے۔ حدیث قدسی میں ہے: جعلتک ذکر آمن ذکری فمن ذکرک ذکر نی (۳)۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۲۲۶–۲۳۰
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
مقدور العبد مقدور اللہ کی وضاحت اور بندوں کے افعال کی تخلیق
باب: کتاب العقائد
مرد اور عورت کے ستر کے احکام، حدود اور نماز کے مسائل
باب: کتاب العقائد
اللہ تعالیٰ کے لیے آنکھ جیسے انسانی اعضاء کے اطلاق اور اس پر تجدیدِ ایمان کا حکم
باب: کتاب العقائد
مخلوق کا خالق پر حق اور اللہ کے وعدے کی تحقیق
باب: کتاب العقائد
لفظ 'خدا' کا اطلاق غیر اللہ پر کرنے اور اللہ تعالیٰ کو 'رام' کہنے کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد