مرد اور عورت کے ستر کے احکام، حدود اور نماز کے مسائل
(۳) ستر کے سلسلے میں وضاحت فرما ئیں کہ کتنی فرض ہے، کتنی واجب اور کتنی سنت؟ مردو عورت میں اس بارے میں کیا فرق ہے؟ نماز اور بیرون نماز کا کیا حکم ہے؟
(۳) تفصیل مطلوب میری نظر سے نہ گزری۔ البتہ رد المحتار وغیرہ میں ایک جزئیہ نظر سے گزرا جس کا حاصل ہے کہ زانو کھولنے والے کو بہ نرمی منع کرے اور ضد کرے تو اسے ڈانٹے اور ر ان کھولنے کو بہ سختی رو کے اور شرمگاہ کھولنے والے کو مارے (۴)۔ جس سے زانو کا ستر واجب ہونا معلوم ہوتا ہے اور زانو سے شرمگاہ تک کا ستر فرض اور زانو سے نیچے انصاف ساقین تک ستر مسنون ومندوب اور یہ اس لئے کہ حدیث میں آیا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا از ار کریم انصاف ساقین تک ہوتا تھا(۱)۔ اور آزاد عورت کا کل بدن عورت ہے سوائے چہرہ اور متھلیوں کے اور پاؤں کے ۔ مگر فساد زمانہ کے سبب اسے غیر محارم سے چہرہ چھپانا لازم ہے۔ درمختار میں ہے: و اما فی زماننا فمنع من الشابة “(۲) اور باندی کا پیٹ پیٹھ اور ناف سے زانو تک عورت ہے۔ عورت کو نماز میں ایک قول معتمد پر پاؤں چھپانا فرض ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم