مقدور العبد مقدور اللہ کی وضاحت اور بندوں کے افعال کی تخلیق
سوال
(1) تفسیر نعیمی جلد اول ( مصنفہ مولانا مفتی احمد یار خاں علیہ الرحمہ ) زیر آیت {إِنَّ الله عَلى كُلّ شَيْءٍ قَدِيرُ } قول متکلمین مقدور العبد مقدور اللہ درج ہے۔ اس کا کیا مطلب ۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
(۱) مطلب یہ ہے کہ بندے کے افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ قال تعالیٰ: خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ ) بندہ اپنے افعال کا خالق نہیں۔ البتہ اسے قدرت کا سبہ عطا ہوئی جس کے ذریعہ وہ اپنے جوارح سے افعال و اقوال کا کسب کرتا ہے اور یہ قدرت کا سبہ جبکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہے تو بالضرورۃ مخلوق ہے تو اس کے ذریعہ جو افعال بندے سے ظاہر ہوتے ہیں بلا شبہ وہ بھی مخلوق باری تعالیٰ ہیں۔ اسی لئے کہتے ہیں: ان مقدور العبد مقدور الله (۲) اور خلق اور اکتساب باہم متساوی نہیں بلکہ متغایر ہیں تو وہابیہ کا اس کلیہ سے اللہ تعالیٰ کے کذب پر دلیل لانا جہل عظیم ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱ · صفحہ ۲۲۶–۲۳۰
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
اللہ تعالیٰ کے لیے آنکھ جیسے انسانی اعضاء کے اطلاق اور اس پر تجدیدِ ایمان کا حکم
باب: کتاب العقائد
نماز اشراق کے ثواب پر فجر کے بعد صلوۃ و سلام کا اثر
باب: کتاب العقائد
لفظ 'خدا' کا اطلاق غیر اللہ پر کرنے اور اللہ تعالیٰ کو 'رام' کہنے کا شرعی حکم
باب: کتاب العقائد
مرد اور عورت کے ستر کے احکام، حدود اور نماز کے مسائل
باب: کتاب العقائد
لفظ خدا کا غیر اللہ پر اطلاق اور رام و خدا کو ایک کہنے کا حکم
باب: کتاب العقائد