اللہ تعالیٰ کے لیے آنکھ جیسے انسانی اعضاء کے اطلاق اور اس پر تجدیدِ ایمان کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید کا قول ہے کہ اگر اللہ کی نگاہ سیدھی ہو تو ضر ور قطب عالم بن سکتا ہے تو عمر و نے کہا کہ زید پر کفر لازم ہے اب وہ تو بہ کرے۔ کیا اس قول سے زید پر کفر صادق آ رہا ہے اور عمرو نے جو ایک مسلمان کو کافر کہا اس کے او پر کیا کم ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما ئیں ۔ المستفتی: شاہد رضا، محلہ چارہ بائی کو ہاڑا پیر، ریلی
الجواب: اللہ تعالیٰ آنکھ وغیرہ جوارح سے پاک ہے وہ بے آنکھ دیکھتا اور بے کان سنتا اور بغیر اعضائے جوارح و بے آلات فعل فرماتا ہے زید کے جملہ سے یہی ظاہر ہے کہ اللہ کے لئے اس نے آنکھ کا اطلاق کیا اور آنکھ بھی وہ جو انسان وغیرہ کے لئے ہوتی ہے اور سیدھی اس پر قرینہ ہے۔ زید پر اس سے تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی کر لے۔ فتح القدیر میں ہے: ،، وقیل یکفر بمجرد الاطلاق ايضا و هو حسن (۱) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفر له ۱۷ ذیقعده ۱۴۰۵ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم / قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی