نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لفظ لاڈلا اور رب کا دلدار کہنے کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: (۱) زید صلوۃ وسلام پڑھنے کے درمیان اس شعر کو پڑھتا ہے. اے خدا کے لاڈلے پیارے رسول محمد یہ سلام عاجزانہ ہو تبول تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے لئے لفظ لاڈلا‘ کا بولنا درست ہے یا نہیں؟ زید کہ رہا ہے کہ یہ لفظ استعمال کرنا درست ہے کیونکہ پروردگار عالم جل جلالہ نے قرآن مجید میں کہیں ید اللہ اور کہیں وجہ اللہ استعمال کیا ہے۔ لہذا ایسا لفظ استعمال کرنا درست ہے اور اگر غلط ہے تو کہنے والے پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ حضور والا اس کا جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل و مفصل بیان فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی. (۲) بکر نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نبیوں کے سردار ہیں ، مدینہ کے تاجدار ہیں، رب کے دلدار ہیں تو یہ لفظ استعمال کرنا درست ہے یا نہیں ؟ امستفتی: عین الرحمن متعلم الجامعۃ العربیہ عربک کالج، اترولہ ، گونڈہ
متشابہات کی بابت اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کا ظاہری معنی جوشان الوہیت کے شایان نہیں، ان سے اللہ تعالیٰ کو منزہ جانے حضور کو اللہ تعالیٰ کا دلدار کہنا منع ہے! الجواب: عليه الصلاۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے: و انا حبیب اللہ (۲)۔ اور میں اللہ تعالیٰ کا حبیب ہوں (اللہ کا پیارا ہوں) پیارے کو لاڈلا بھی کہتے ہیں۔ اور ید اللہ ، وجہ اللہ، متشابہات میں سے ہیں اور متشابہات کے بابت عقیدہ اہل سنت یہ ہے کہ ان کا ظاہری معنی جوشان الوہیت کے شایان نہیں اس سے اللہ تعالیٰ کو منزہ جانے اور اس کی حقیقی واقعی مراد اللہ کو معلوم ہے۔ لہذا ید اللہ ، وجہ اللہ سے اللہ کا ہاتھ اور اس کا چہرہ عیاذاً باللہ مراد نہیں اور ان کلمات سے استدلال کا کوئی محل نہیں نہ اس کی ضرورت ہے (۲) اللہ کا دلدار کہنا منع ہے کہ دلدار کا معنیٰ ہوا دل رکھنے والا اور اللہ دل وغیرہ اعضاء سے پاک ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲ رشوال المکرم ۱۴۱۰ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی