سجدہ تعظیمی کے جواز کا قول کرنے والے عالم کی تفسیق اور ان کی قبر پر فاتحہ کا حکم
(۲) اگر زید عالم نے اپنی تحقیقات کی روشنی میں سجدہ تعظیمی کے جواز کا فتوی دیا اور دلیل میں حدیث پاک و دیگر علماء ومحدثین کے اقوال بھی نقل کئے اور عدم جواز پر جو دلیلیں میں ان کی تاویلات بھی کیں اور تاویلات میں بھی نیت بخیر رہی ہو تو کیا ایسے عالم سے حسن عقیدت رکھنا، ان کی تعریف و توصیف کرنا قبر پر فاتحہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر بالفرض زید نے بکر عالم کی شان میں کچھ لکھا تو اس کو تلف کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ واضح رہے کہ جواز کا قول محبوب الہی نے کیا ہے۔ اگر چہ جمہور علما وفقہاء اس کی حرمت کے قائل ہیں ۔ اور حرمت کا فتویٰ بھی دیا جاتا ہے۔ مگر اس زید عالم مذکور سے جمہور کے خلاف جواز کا قول دیدہ و دانستہ صادر نہ ہوا ہو تو کیا ایسی صورت میں بھی عند الشرع فاسق فاجر ٹھہرے گا یا نہیں؟ جو بھی جواب دیں۔ دلیل کے ساتھ ارقام فرمائیں۔
(۲) زید عالم نے اگر بے وجہ شرعی مخالفت جمہور کا فیصلہ نہ کیا بلکہ وہ اس میں متکول ہے تو اس کی تفسیق جائز نہیں۔ بلکہ حسن ظن لازم ہے اور اس کے علم وفضل کی تعریف ہے مبالغہ اور قبر پر فاتحہ خوانی جائز ہے اور مرغوب ہے مگر اس مسئلہ میں اسے غلطی پر جانے اور جمہور علماء کا اتباع کرے در مختار میں ہے: علیَنا اتّباعُ ما رجَّحُوه وما صحّحُوهُ کَما لو افتَو فی حیاتِهم (۱)۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از ہری قادری غفرلہ ۸ / جمادی الاخری ۱۴۰۶ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی