اشعار میں سجدہ کا لفظ استعمال کرنے اور سجدہ تعظیمی کے حکم کا بیان
اور کیا شعروں میں شرعی نقص ہے؟ کیا مندرجہ بالا کلمات، اولیاء اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی ہیں یا نہیں؟ شعر نمبر (۲) کا ترجمہ جونوری کرن اور استقامت نے شائع کیا وہ صیح و درست ہے یا جو اعتراض اس شخص نے کیا ہے وہ ٹھیک ہے؟ خادم کو تجدید بیعت کرنی چاہئے یا یہ شخص تجدید ایمان و بیعت و نکاح کرے؟ جبکہ شان اولیاء اللہ تعالیٰ قرآن عظیم اور احادیث نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ (1) پارہ نمبر (11) يعتذرون، رکوع نمبر (۱۱) سورۃ یونس (أَلا إِنَّ أَوْلِيَاء الله لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ} - (۲) مشکوة شریف ص ۱۹۷ ، اور صحیح البخاری شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔ حضرت سیدنا ابو ہر پر ورضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ جس نے میرے ولی سے عداوت کی اس شخص کو میری طرف سے اعلان جنگ ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ استدعا ہے کہ جواب سے مطلع فرماویں اور جملہ مسائل کو اپنے رسالہ اعلیٰ حضرت میں شائع فرما کر مشکور فرما ئیں ۔ معین نوازش ہوگی ۔ فقط ۔ والسلام علیکم ۔ المستفتی محمد ضمیر مصباحی، اے۔ایس۔ آئی (پولیس) ۱۵،۵/۴۲ر بٹالین ، پی۔اے۔ ہی۔ تاج گنج، آگرہ، یوبی
الجواب: شعر مذکور میں سجدہ حقیقی ہرگز مراد نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہے۔ غیر خدا کے لئے سجدہ به نیت عبادت کفر و شرک ہے اور بہ نیت تعظیم ہماری شرع میں حرام ہے۔ اس کا مرتکب کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوگا مگر شرک نہ ہوگا۔ شخص مذکور نے اپنی جہالت سے یا تو سجدہ کو سجدہ عبادت سمجھ لیا اور مولانا علیہ الرحمہ پر حکم شرک جڑ دیا یا سجدہ تعظیمی ہی کو یہ تقلید وہابیہ شرک جانا اور سجدہ سے مجر تعظیم مراد ہونا اس کے خیال میں نہ آیا حالانکہ عرف میں سجدہ سے کبھی مجرد تعظیم بھی مراد ہوتی ہے۔ شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی تفسیر عزیزی میں ایک گروہ اولیا کے متعلق فرماتے ہیں: در مسجود خلائق گشته اند ملخصاً (1) اب کیا شاہ صاحب کو بھی مشرک کہا جائے گا ؟ نہیں! اور یہی وجہ ہر شخص موافق و مخالف بیان کرے گا کہ یہاں مجازی معنی مراد ہیں۔ اور جب یہاں شاہ صاحب کی عبارت میں مجازی معنی مراد ہوئے تو اس شعر میں حقیقت مراد ہونے کا علم کیسے ہو گیا مگر ہے یہ کہ وہابیہ بڑی ہٹ دھرم قوم ہے۔ جو بات دوسروں کے لئے شرک وہی بات اپنوں کے لئے عین ایمان ہو جاتی ہے۔ پھر بالفرض اگر حقیقی معنی ہی مراد تو محض اتنی بات پر حکم شرک کیسے دے دیا۔ ہنوز سجدۂ حقیقی میں دو قسموں کا احتمال ہے تعظیمی اور تعبدی۔ پہلا حرام ہے، دوسرا شرک ہے۔ اسے پھلانگ کر یہ دوسرا ہی کیوں پکڑا۔ مگر یہ کہ وہابیہ کو شرک گری کی ہوس ہے۔ کہاں ان مقہورین کے یہ بڑے بول اور کہاں ہمارے علمائے اہل سنت کا یہ بلند پایہ احتیاط کہ فرماتے ہیں: ،، لا یفتی بکفر مسلم امکن حمل کلامه او فعله علی محمل حسن او كان في كفره خلاف ) یعنی مسلمان کے قول و فعل کو معمل حسن پر رکھنا جب تک ممکن ہو یا اس کے کفر میں خلاف ہو اس کے کفر کا فتویٰ نہ دیا جائے گا۔ پھر شرک کا وہ جرنیلی حکم اور اس پر یہ کہنا کہ اگر بغیر تو بہ کے وصال ہوا تو اللہ تعالیٰ بہتر جانے کہ بخشش ہو یا نہ ہو طرفہ عجب ہے۔ گویا کھلا مشرک جس کا خاتمہ شرک پر ہو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ہے، چاہے بخشے چاہے عذاب دے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ - الآية (۲) اللہ شرک کو معاف نہ فرمائے گا۔ یہ کہنا آیت کریمہ اور عقیدہ ضرور یہ دینیہ کا انکار ہے جو کفر ہے اور اس قول سے اس پر تو بہ وتجدید ایمان لازم ہے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی لازم ہے اور تجدید بیعت بھی اس کو چاہئے ۔ ترجمہ دونوں طرح درست ہے اور شعر دونوں تر جموں پر صحیح و بے غبار ہے کہ ہم اگر سجدہ کریں گے یا ہم اگر سجدہ کرتے شرطیہ ہے جو مستلزم وقوع نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ ذیقعده ۱۳۹۸ھ الجواب صحیح وصواب والمحجیب مصیب ومثاب۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القویدارالافتاء منظر اسلام، بریلی شریف