شعر کی مجازی تشریح اور اس پر شرعی حکم کا سوال
اور اس شعر میں تصویر بنا کر اکملت کہنے اور چھوڑ دینے کو مستقل مراد نہیں لیا گیا ہے۔ بلکہ صرف یہ مراد لیا گیا ہے کہ تصویر بنانا اکملت کہنے اور قلم چھوڑ دینے پر لازم ہے جیسا کہ قواعد اردو مصنف عبدالحق میں ہے: یہ ہمیشہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جملے کے اصل فعل سے جس کام کا اظہار ہوتا ہے اس سے پہلے ایک کام ہو چکا ہے مادہ فعل کے ساتھ کر“ یا ” کے کے زیادہ کرنے سے بنتا ہے۔ جیسے وہ نہا کر سو گیا (ص۲۵۱) اور یہاں اکملت کہنے اور قلم چھوڑ دینے میں ترتیب مراد نہیں لی گئی ہے جیسا کہ مصباح بلاغت مصنف محمد شریف میں ہے جب ایک جملہ کا عطف دوسرے جملہ پر یا ایک مفرد کا عطف دوسرے مفرد پر ہوتا ہے تو عطف کے مقبول ہونے کی شرط یہ ہے کہ دونوں میں کسی قسم کی مناسبت ہو (۸۵) اور اسی میں آگے ہے اگر ایک جملہ کو دوسرے جملہ کے ساتھ وصل کیا گیا ہے اور دونوں میں مسند الیہ شئ واحد ہے تو اس جگہ کسی اور مناسبت کی ضرورت نہ ہوگی اس طرح مندرجہ بالا شعر کے معنی یہ ہیں کہ خالق اکبر جل و علا نے اے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو اکمل تخلق بنا کر ( معنی حقیقت محمدیہ کو ) پیدا فرمایا اور لوح محفوظ پر قلم سے ان امور کولکھوا کر اسے فارغ کر دیا ہے جن میں سے یہ ہے کہ آپ اکمل الخلق ہیں اور جب اسے منظور ہوا وحی متلو یا وحی غیر متلوالہامات یا دوسرے طریقوں سے اس امر کو ظاہر فرمایا کہ آپ اکمل الخلق ہیں۔ بہر حال اس شعر میں معنی الفظی یقینا مراد نہیں ہیں بلکہ معنی مجاز مراد ہیں۔ کیا اس بنا پر تجدید ایمان و تجدید نکاح و کفریات سے تو بہ لازم آئے گا؟ کیا اس بناء پر انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام اور حضور سرور کائنات روحی فداه صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں تو ہین ہوتی ہے؟ اگر یہ سب لازم آتا ہے تو صراحت فرمائیں ورنہ مطالبہ کرنے والے پر شرعا کیا حکم ہے اور اگر جہالت یا نا کبھی سے ایسا کیا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: انبیا علیہم السلام کو اوتار کہنا سخت نہایت بدتر ہے یہ ہندووں اور روافض کے فرقہ ملولیہ کا عقیدہ باطل فاسد کا سر خیال عاطل ہے۔ ہندو اوتار اسے کہتے ہیں جس میں ان کے نزدیک خدا نے حلول کیا اور روافض مولیٰ علی میں حلول مانتے ہیں۔ اس شخص پر تو بہ فرض ہے اور تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم تشریح مصنف: یہ مجھ پر جھوٹا الزام اور سراسر کذب و بہتان ہے کہ میں نے انبیا کرام کو اوتار کہا ہے۔ میں نے بشری میں کھیل پر گرن کی سرخی کے تحت اسکی عبارت نقل کی ہے جس میں اوتار کا لفظ آیا ہے اور ترجمہ میں بھی وہی اوتار کا لفظ نقل کر دیا ہے۔ اس لفظ سے میں نے کوئی استثنا نہیں کیا ہے بلکہ اس عبارت کے اندر ” بیچو بیچ اور تعریف کیا گیا سے استثناء کیا ہے۔ (بشری ص ۱۵۴۵) میں یہ عبارت موجود ہے کہ لہذا بات صاف ہو گئی جس کو عربی میں محمد کہا گیا ہے اسی کو سنسکرت زبان میں ہر پر شو تم“ کہا گیا ہے اور اس منتر میں جس مخصوص نشانی کا تذکرہ ہے اس کی مصداق صرف اور صرف ذات رسالت مآب ہے اور اس وصف خصوصی میں کوئی بھی دوسرا شریک و سہیم نہیں ۔ وہ مخصوص نشان یہ ہے کہ وہ تعریف کیا گیازمین کے بیچو بیچ میں پیدا ہو گا۔ اس نشان کو بغور ملاحظہ کرتے ہوئے اس پر بھی ذراغور کیجئے مکہ مکرمہ کا ایک بہت مشہور نام ام القری ہے جس کے معنی میں دنیا کی کل آبادی کی ماں اور اصل ۔ انتہی بلفظه یہاں لفظ اوتار سے کوئی استثنا نہیں کیا ہے تو کیا ایسی حالت میں مجھے اوتار کہنے کا الزام دیا جا سکتا ہے اور اس بنا پر مجھ پر کفر عائد ہو سکتا ہے اور کیا اس میں بطور نقل لفظ او تا رلکھ دینے سے مجھ پر کفر عائد ہو جائے گا اور تجدید ایمان و تجدید نکاح وکفریات سے تو بہ لازم آئیگی؟ صرف نقل کی وجہ سے اگر مجھ پر کفر لازم نہیں آتا تو زبردستی کھینچ تان کر مجھ پر کفر کا الزام لگانے کے لئے مجھے قائل قرار دے کر فتوی حاصل کرنے والے کا کیا حکم ہے اور مشتہر کا کیا حکم ہے؟ یا جہالت و نا سمجھی سے ایسا الزام لگایا تو کیا حکم ہے؟ نہیں تو ایسا حکم لگانے والے کا کیا حکم ہے؟ اور کیا ایسی صورت میں انبیاء کرام علیہم السلام اور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہوگی؟ اور کیا اس کے مصدق کی صرف تصدیق کی بنا پر تکفیر ہو جائیگی؟ اور ایک مولوی صاحب نے اس کی تصدیق کرنے کی وجہ سے ان سے یہ بھی کہا کہ تمہارا حج برباد ہو گیا نکاح باطل ہو گیا۔ بیعت ٹوٹ گئی جن لوگوں نے تم سے بیعت کی سب فسخ ہوگئی ۔ آپ سے تجدید ایمان و تجدید نکاح و کفریات سے تو بہ کرا کر رہوں گا تم نے مجھ سے توبہ کرائی ہے لہذا میں تم سے تو بہ کرا کے رہوں گا۔ کیا مصدق پر بھی تجدید ایمان و تجدید نکاح وکفریات سے تو بہ لازم آئیگی یا نہیں؟ اگر لازم نہیں آئیگا تو ایسا کہنے والے اور لکھنے والے پر شرعا کیا حکم ہوگا ؟ بینوا توجروا۔ الجواب: لمستفتی: محمد نعمت اللہ غفرلۂ حامدی در یا مسجد اله آباد محرم الحرام ۱۳۹۹ھ (1) شعر مندرجہ کی تاویلات نہایت بعیدہ ہیں لہذا نا مسموع ہیں۔ علماء فرماتے ہیں: التاويل في لفظ صراح لا يقبل (1) اور فرماتے ہیں: المراد لا يدفع الايراد “(۲) علامہ شامی رد المحتار میں امام علامہ نسفی سے ناقل ہیں: مجرد ایهام المعنى المحال كاف في المنع عن التلفظ بهذا الكلام “ (۳) جزئیہ مذکورہ سے صاف ظاہر کہ مجر دایھام ہی ممانعت کے لئے کافی ہے تو ” تصویر بنا کر قلم چھوڑ دیا ہے مجر دا ھام کی حد سے متجاوز ہے لہذا حضرت مفتی اعظم ہند مدظلہ العالی کا اس شعر سے تو بہ کا حکم برحل ہے جسے تاویل دفع نہیں کر سکتی۔ مزید برآں قلم کی وہ تاویل خلاف ظاہر ہونے کے علاوہ حدیث مشہور : کتب الله مقادير الخلائق (۲) کے مخالف ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱) الشفابتعریف حقوق المصطفى ج ۲، ص ۳۵۷، الباب الرابع فی بیان ماهو في حقه صلى الله علیه وسلم، المكتبة العصرية بيروت (4) منحة الخالق على البحر الرائق شرح كنز الدقائق ج ۲، ص ۵۶۱، کتاب الحج باب الاحرام، مطبع زکریا بکڈپو (۳) رد المحتار، ج ۹، ص ۵۶۷ ، فصل فی البيع، دار الكتب العلميه، بيروت (۴) الصحيح المسلم كتاب القدر باب حجاج آدم و موسى ج ۲ ص ۳۳۵، مطبع مجلس برکات مبارکپور / مشكوة المصابيح، ص ۱۹، باب الايمان بالقدر، الفصل الاول مطبع مجلس برکات مبارکپور یہ تو نفس شعر کے متعلق حکم شرعی تھا جس کا منشا اطلاق لفظ میں احتیاط ہے تو تو بہ کا حکم ضرور احتیاطی ہے۔ مگر اس سے یہ سمجھ لینا کہ معاذ اللہ تو بہ کا حکم قاتل کے یقینا کا فر ہونے کا حکم ہے۔ کلام متین و متعین و تکفیر فقہی و تکفیر کلامی کے فرق سے بے خبری ہے اور فقہاء کے ارشاد واجب الانقیاد : " لا یفتی بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره خلاف ولو رواية ضعيفة (1) سے ناواقفی ہے ورنہ تکفیر کی جرات نہ ہوتی۔ پھر مصدق کی تکفیر جرات بالائے جرات ہے۔ یہ از خود کیسے طے کر لیا کہ مصدق نے یہ شعر دیکھا اور اس کو مقر رکھا بلکہ رجم بالغیب ہے کہ شعر محتمل اور مراد خود قائل کی نامعلوم ، چہ جائیکہ مصنف کی مراد معلوم ہو بلکہ مصنف سے یہی حسن ظن ہے کہ ہرگز ان کے ذہن میں معنیٰ کفری نہ آئے ہوں گے پھر مصدق کے بارے میں کیا گمان ہے جبکہ اس کی احتیاط شہرہ آفاق ہے بالجملہ مصنف و مصدق کی تکفیر بڑی جرات کی بات ہے جس سے تو بہ کا حکم ہے۔ اور فتویٰ سے تکفیر سمجھنا اس کا حال کھل چکا۔ واللہ تعالی اعلم (۲ تا۵) بشری کی عبارت ملاحظہ ہو ئیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ مصنف محض ناقل ہے اور محض نقل یا ترجمہ میں غلطی سے اس کی تکفیر نہیں ہوسکتی۔ محض ناقل کو جس نے قائل بنایا اور اسپر فتوی کی بنا پر ناقل و مصدق کی تکفیر کی وہ خود اس کے حکم میں گرفتار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ ؍ ربیع الاول ۱۳۹۹ھ الجواب صحیح والمجیب صحیح۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر مصطفی رضا غفرلہ تحسین رضا خاں غفرلہ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی ۱۵ ربیع الال ۱۳۹۹ھ (1) الدر المختار، ج ۶، ص۳۶۷، كتاب الجهاد باب المرتد دار الكتب العلمية، بيروت