دیوبندی کتب جن میں قرآنی آیات ہوں ان کو جلانے کے الزام اور علما پر بہتان کا حکم
مولوی اسمعیل دہلوی اور دیو بندیوں کی کتابوں میں اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین کہ: ایک شخص کہتا ہے کہ بریلوی علما دیو بندیوں کی کتابوں خصوصا تحذیرالناس، حفظ الایمان ،صراط مستقیم وغیرہ کتب کو چوراہے پر جلانے کے لئے کہتے ہیں جبکہ ان کی کتابوں میں سرورق سے لے کر ختم شد تک آیت قرآنیہ و حدیثیں لکھی ہوئی ہیں کیا ہمارے علما نے ان کتابوں کو ہی چوراہے پر جلانے کے لئے کہا ہے یا کچھ عقائد میں ہمارے اور دیو بندیوں کے فرق ہے۔ جب کہ کچھ عقائد میں ہی فرق ہے تو پوری کتابوں کو کیسے جلایا جا سکتا ہے اور پھر آیت قرآنیہ جبکہ قرآن کے ایک لفظ کی اس قدر تو قیر ہے تو پھر پوری کتاب کی تو بات ہی الگ ہے۔ اگر ہمارے علما نے ان کتابوں کو جلانے کے لئے نہیں کہا تو اس شخص کے لئے کیا حکم ہے؟ کیا وہ ہمارے علما پر بہتان نہیں لگا رہا ہے۔ کیا ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے؟ اور اس کی امامت کیسی ہے؟ مہربانی فرما کر آسان زبان میں تحریر کرنے کی زحمت کریں جس سے بخوبی سمجھایا جا سکے۔ المستفتی: محمد حسین، ڈوگر سران سنجل ضلع مراد آباد، یوپی
وہابیہ کے گرو گھنٹال مولوی اسمعیل دہلوی اور دیوبندیوں کی کتابوں میں اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخیاں ضرور لکھی ہیں جن کی وجہ سے عامر عثمانی دیو بندی ثم مودودی نے ماہنامہ تجلی میں ان کتابوں کی نسبت سے یہ کہا تھا کہ چوراہے پر رکھ کر آگ لگا دی جائے ۔ کسی سنی عالم نے یہ بات نہ کہی ۔ وہ شخص سنی علما پر بہتان باندھتا ہے اور اس سے اس کی دیوبندیت نوازی ظاہر ہے۔ لہذا اس کی امامت سے سخت پر ہیز ضروری اور اسے فوراً معزول کرنالازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۵ رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ