میں خد اور سول کو نہیں جانتا کہنا کفر ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک لڑکی موضع بلیا کی رہنے والی ہے اور بلیا ہی میں بیاہی ہے کچھ دنوں کے بعد وہ ایک انگریز کے ساتھ فرار ہوگئی چھ ماہ کے بعد اس کے عزیز اس کو پکڑ کر لے آئے پھر ایک سال کے بعد ایک برادر کے ساتھ فرار ہوگئی ۔ لڑکے کے وارث تلاش کرنے کے لئے نکلے نیپال کے علاقے میں لڑکا لڑکی کو پکڑ کر لے آئے۔ گھر آنے پر شریعت کے خوف سے اس لڑکی کو شوہر کے حوالے کرنے گئے اور یہ کہا یا تو استعفیٰ دے دو یا اس لڑکی کو لے لو اس کا شوہر فوراً پولیس کو لے آیا اور ہمراہ پولیس کچھ سکھ واسطے خرید نے لڑکی کو آئے پولیس نے لڑکے کے باپ کو گر فتار کیا اور سکھ بواسطے خرید نے لڑکی کے ٹھہرے رہے چند معزز شخص وہاں موجود تھے۔ یہ بات ان مسلمانوں کو بڑی ناگوار ہوئی کہ ان مسلمانوں نے تھانے دار کو کچھ روپیہ دے کر بھگا دیا اور وہ دیوث یہ کہتا ہے کہ میں اس عورت کو نہیں رکھوں گا اور استعفی نہیں دوں گا۔ پنجابی کے ہاتھ پائوں گا۔ پھر چھ ماہ بعد اپنی عزت کی خاطر اور خدا کے عذاب سے بچنے کی خاطر تمام برادروں کو جمع کر کے بلیا پہنچ کر خور دوکلاں کے سامنے یہ کہا یا تو اس کو لے لو یا استعفیٰ دے دو خدا ورسول کے واسطے تو اس شخص نے برملا کہا کہ میں خدا اور رسول کو نہیں جانتا میں اسے نہیں رکھوں گا پنجابی کے ہاتھ فروخت کروں گا پہنچ صاحبان اٹھ کر چلے گئے وہ لڑکی بھاگنے والے کے ساتھ ہے۔ لڑکے کے وارث شریعت کے پابند ہیں تمام ورثا لڑکی کو بہت زیادہ تنگ و پریشان کرتے ہیں کہ تو ہمارے یہاں سے چلی جالڑ کی یہ کہتی ہے کہ اگر مجھ کو زیادہ پریشان کرو گے تو مجھے اپنے ایمان کے بگڑ جانے کا اندیشہ ہے۔ نوٹ: لڑکی کے شوہر نے اپنا دوسرا نکاح کر لیا۔ اس لڑکی کا کوئی وارث نہیں ہے۔ دونوں بدکاروں کا قول ہے کہ شریعت میں ہماری درستگی کے لئے جو بھی قانون ہو برائے کرم نافذ کریں ہم کو امر شرع منظور ہے۔ کلکٹر صاحب سے لڑکی نے اپنی رودادسنا کر آزادی کا سارٹی فکیٹ حاصل کر لیا ہے لیکن شریعت کا حکم مسلمانوں کے لئے اہل قانون ہے مفتی صاحب حکم صادر فرمائیں۔ آپ کا خادم : مفتی جلال الدین ، موضع کھیزہ ضلع پیلی بھیت
الجوا: و شخص یہ کہہ کر معاذ اللہ میں خدا اور رسول کو نہیں جانتا‘ کافر مرتد خارج از اسلام ہو گیا اور عورت اس کے نکاح سے باہر ہوگئی عدت گزار کر جس سے چاہے نکاح کرے اور غیر مرد کے ساتھ نا جائز تعلق سے وہ اور مرد دونوں تو بہ کریں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ اگر واقعی اس شخص نے ایسا کیا ہے تو یہی حکم ہے۔ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی