نقل کفر کفر نہیں ہوا کرتا!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل و وضاحت ضرور یہ تشریح مصنف میں : وضاحت ضروریہ: بشری نام کی ایک کتاب لکھی گئی جس میں غیر مسلموں کے مسلم اشخاص کی لکھی ہوئی ان کے مذہبوں کی مسلم کتابوں کی عبارتوں سے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و حقانیت ثابت کی گئی ہے۔ اس کی بعض عبارتوں کے متعلق زید نے استفتا کر کے اس کا جواب حاصل کیا اور عمر و بکر نے اسے شائع کر کے اسکے مصنف و مصدق سے تجدید ایمان ، تجدید نکاح اور کفریات سے تو بہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ان پریشان رسالت علی صاحبھا التحیۃ والثناء کی توہین کا الزام لگایا ہے۔ لہذا حسب ذیل سوالات اور ان کے جوابات درج کئے جاتے ہیں اور ان کے متعلق مصنف کی جانب سے تشریح بھی درج کی جاتی ہے۔ کتاب کے مصنف و مصدق اور اشتہار کے ناشر اور استفتا کرنے والے مستفتی کے متعلق جو فیصلہ ہو مفصل علیحدہ علیحدہ واضح طور پر بیان فرمایا جائے ، کرم ہو گا۔
بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی علی حبیبه الکریم وآله واصحابه وابنه وحزبه اجمعين کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل و وضاحت ضرور یہ تشریح مصنف میں : وضاحت ضروریہ: بشری نام کی ایک کتاب لکھی گئی جس میں غیر مسلموں کے مسلم اشخاص کی لکھی ہوئی ان کے مذہبوں کی مسلم کتابوں کی عبارتوں سے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و حقانیت ثابت کی گئی ہے۔ اس کی بعض عبارتوں کے متعلق زید نے استفتا کر کے اس کا جواب حاصل کیا اور عمر و بکر نے اسے شائع کر کے اسکے مصنف و مصدق سے تجدید ایمان ، تجدید نکاح اور کفریات سے تو بہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ان پریشان رسالت علی صاحبھا التحیۃ والثناء کی توہین کا الزام لگایا ہے۔ لہذا حسب ذیل سوالات اور ان کے جوابات درج کئے جاتے ہیں اور ان کے متعلق مصنف کی جانب سے تشریح بھی درج کی جاتی ہے۔ کتاب کے مصنف و مصدق اور اشتہار کے ناشر اور استفتا کرنے والے مستفتی کے متعلق جو فیصلہ ہو مفصل علیحدہ علیحدہ واضح طور پر بیان فرمایا جائے ، کرم ہو گا۔ مسائل نقل استفتاو جواب تشریح منجانب مصنف بشری“۔ سوالا: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل سوالوں کے بارے میں: نقاش ازل نے تیری تصویر بنا کر أكْمَلْتُ “ کہا اور قلم چھوڑ دیا ہے“ نعت کے مندرجہ بالا شعر میں خداوند تعالیٰ کو نقاش ازل اور قلم سے تصویر بنانے والا اور أكْمَلْتُ “ کہہ کر قلم چھوڑ دینے والا کہا گیا۔ ان لفظوں کا اطلاق حضرت باری عزاسمہ پر جائز ہے؟ یا اس شاعر پر ان لفظوں سے تو بہ لازم ہے؟ جواب: نقاش ازل کہنے میں تو اس پر تو بہ لازم نہیں مگر یہ شعر درست نہیں۔ اس سے تو بہ لا زم ۔ اس نے کہاں سے کہا؟ قرآن وحدیث ، علما کے اقوال، یا جی سے؟ ” تصویر بنا نا یہ نہیں کہنا چاہئے تھا۔ اس کا مطلب اگر تخلیق ہو کہ تجھے خلق فرما کر اکملت کہا تو جب تک یہ ثابت نہ ہو اپنے جی سے یہ کہنا کہ نقاش ازل نے اس وقت اکملت فرمایا۔ یہ افترا ہوگا والعیاذ باللہ تعالیٰ ۔ تصویر بنانے کی تاویل تخلیق نہیں بنتی اس لئے کہ آگے کا جملہ اور قلم چھوڑ دیا قلم سے تصویر بنانے کا قرینہ ہے گویا اس نے کہا کہ قلم سے تصویر بنائی اور جب پوری ہوئی تو اکملت کہا اور قلم چھوڑ دیا ہے۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ تشریح مصنف: اس شعر میں مستعمل الفاظ تصویر بنانا، نقاش ازل اور قلم چھوڑ دیا ہے۔ ان الفاظ کے معنی حسب ذیل ہیں: تصویر بنانا، پیدا کرنا، جیسا کہ مستند اردو لغت نور اللغات میں تصویر بنانے کے معنیٰ میں درج ہے۔ ( ج ۲، ص ۲۰۲) نقاش ازل، خدا جیسا کہ مستند اردو لغت نور اللغات میں نقاش ازل کے معنی میں درج ہے ( ج ۴، ص ۸۳۴) خدا تعالیٰ نے کہا “ کہنے کا معنی ظاہر کرنا یا اشارہ کرنا جیسا کہ نوراللغات میں کہنے کے معنی میں درج ہے ( ج ۴، ص ۲۰۰) قلم وہ قلم جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے لوح محفوظ پر قیامت تک ہونے والے تمام امور کو لکھ دیا ہے۔ جیسا کہ تفسیر خازن میں والقلم کی تشریح میں ہے۔ ثم قال اجر بما هو كائن الى يوم القيامة فجرى على اللوح المحفوظ بذالک وانما يجرى الناس على امر قد فرغ منه “ [الخازن ج ۴، ص ۳۲۳، دار الکتب العلميه، بیروت ] چھوڑ دیا ہے، رہا کرنا اور آزاد کرنا جیسا کہ نور اللغات میں چھوڑنے کے معنی میں مذکور ہے ( ج ۲، ص۴۴۱) اور اس شعر میں تصویر بنا کر اکملت کہنے اور چھوڑ دینے کو مستقل مراد نہیں لیا گیا ہے۔ بلکہ صرف یہ مراد لیا گیا ہے کہ تصویر بنانا اکملت کہنے اور قلم چھوڑ دینے پر لازم ہے جیسا کہ قواعد اردو مصنف عبدالحق میں ہے: یہ ہمیشہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جملے کے اصل فعل سے جس کام کا اظہار ہوتا ہے اس سے پہلے ایک کام ہو چکا ہے مادہ فعل کے ساتھ کر“ یا ” کے کے زیادہ کرنے سے بنتا ہے۔ جیسے وہ نہا کر سو گیا (ص۲۵۱) اور یہاں اکملت کہنے اور قلم چھوڑ دینے میں ترتیب مراد نہیں لی گئی ہے جیسا کہ مصباح بلاغت مصنف محمد شریف میں ہے جب ایک جملہ کا عطف دوسرے جملہ پر یا ایک مفرد کا عطف دوسرے مفرد پر ہوتا ہے تو عطف کے مقبول ہونے کی شرط یہ ہے کہ دونوں میں کسی قسم کی مناسبت ہو (۸۵) اور اسی میں آگے ہے اگر ایک جملہ کو دوسرے جملہ کے ساتھ وصل کیا گیا ہے اور دونوں میں مسند الیہ شئ واحد ہے تو اس جگہ کسی اور مناسبت کی ضرورت نہ ہوگی اس طرح مندرجہ بالا شعر کے معنی یہ ہیں کہ خالق اکبر جل و علا نے اے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو اکمل تخلق بنا کر ( معنی حقیقت محمدیہ کو ) پیدا فرمایا اور لوح محفوظ پر قلم سے ان امور کولکھوا کر اسے فارغ کر دیا ہے جن میں سے یہ ہے کہ آپ اکمل الخلق ہیں اور جب اسے منظور ہوا وحی متلو یا وحی غیر متلوالہامات یا دوسرے طریقوں سے اس امر کو ظاہر فرمایا کہ آپ اکمل الخلق ہیں۔ بہر حال اس شعر میں معنی الفظی یقینا مراد نہیں ہیں بلکہ معنی مجاز مراد ہیں۔ کیا اس بنا پر تجدید ایمان و تجدید نکاح و کفریات سے تو بہ لازم آئے گا؟ کیا اس بناء پر انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام اور حضور سرور کائنات روحی فداه صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں تو ہین ہوتی ہے؟ اگر یہ سب لازم آتا ہے تو صراحت فرمائیں ورنہ مطالبہ کرنے والے پر شرعا کیا حکم ہے اور اگر جہالت یا نا کبھی سے ایسا کیا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ سوال-۲: آتش پرستوں کی کتاب ”سفرنگ و ساتیرہ“ کے مصنفوں کو ایرانی پیغمبروں سے ملقب کرنا اور ان لوگوں کو پیغمبر کہنا کفر ہے یا نہیں؟ جواب: قرآن وحدیث سے جن کی نبوت و رسالت معلوم ہے ان کے سوا اور انبیاء جو دنیا میں آئے ان سب پر مسلمانوں کا ایمان ہے اور بے ثبوت شرعی کسی کو نبی ورسول نہیں کہہ سکتے و وسا تیرہ وغیرہ کے مصنفوں کو جس نے ایرانی پیغمبر کہا تو بہ وتجدید ایمان کرے۔