آتش پرستوں کی کتاب کے مصنفین کو پیغمبر کہنے کا حکم
سوال-۲: آتش پرستوں کی کتاب ”سفرنگ و ساتیرہ“ کے مصنفوں کو ایرانی پیغمبروں سے ملقب کرنا اور ان لوگوں کو پیغمبر کہنا کفر ہے یا نہیں؟
جواب: قرآن وحدیث سے جن کی نبوت و رسالت معلوم ہے ان کے سوا اور انبیاء جو دنیا میں آئے ان سب پر مسلمانوں کا ایمان ہے اور بے ثبوت شرعی کسی کو نبی ورسول نہیں کہہ سکتے و وسا تیرہ وغیرہ کے مصنفوں کو جس نے ایرانی پیغمبر کہا تو بہ وتجدید ایمان کرے۔ تشریح مصنف: میں نے آتش پرستوں کی کتاب سفرنگ و ساتیرہ کے مصنفوں کو ایرانی پیغمبر سے ملقب نہیں کیا ہے۔ یہ مجھ پر غلط الزام اور سراسر بہتان ہے یہ میں نے ان لوگوں کی اصطلاح کی بنا پر نقل کیا ہے ان کی اور ان کے علاو و غیروں کی کتابوں کی جو عبارتیں نقل کی ہیں۔ یا ان کے مسلم مصنفوں کا جو تذکرہ کیا ہے اس سے میرا مقصد ان کو تسلیم کرانا ہے۔ کیونکہ ان کے مسلم مصنف اور مسلم کتابوں سے نقل کرنے سے انصاف کا تقاضا تو یہی ہے کہ وہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے غلام اور مومن ہو جائیں۔ ورنہ ان پر اتمام حجت ہو جائے جیسا کہ میری کتاب بشری کے ص ۳۵ کی اس عبارت ” نیز ان کتب سماویہ کے علاوہ پارسیوں کی مذہبی کتاب سفرنگ و ساتیرہ کی آیتوں اور ہندووں کی مشہور مذہبی کتاب ویدویران سے ان منتروں کو پوری ذمہ داریوں کے ساتھ اس کتاب میں مختصر میں تشریح کے ساتھ نقل کیا ہے جن سے میرے آقاسید نا ومولانا محمد رسول اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فضائل پاک کا بہترین ثبوت ملتا ہے۔ یہ میرے آقا کا زندہ اور بے مثل معجزہ ہے کہ اپنے تو خیر اپنے ہیں غیر بھی ان کی مدحت سرائی میں مشغول ہیں انتہجی بلفظہ ۔ نیز ص ۳۶؎ کی اس عبارت دو اور غیروں سے اپنا ذکر کرا کے اپنی قاہر حکومت کا مظاہرہ فرمارہے ہیں۔ اور کل میدان قیامت میں ان کے لئے مسکت جواب ہوگا۔ جب کہ وہ کہیں گے کہ ہمیں تو سر کار کی نبوت ورسالت کی اطلاع نہیں ملی ورنہ ضرور ایمان لاتے تو ان سے یہ کہا جائے گا کہ تم جھوٹ بولتے ہو کیا تم نے اپنی کتابوں میں سرکار مدینہ کے اوصاف نہیں پڑھے تھے مگر عناد و تعصب کی بنا پر منکر رہے اب بہانے مت بناؤ تم پر دلیل قائم ہو چکی۔ اس دن ان کو ذلتوں کی جو پریشانیاں نصیب ہوں گی اس کا بھی پورا پورا اظہار ہوگا۔ انتہی بلفظہ ۔ اس سے واضح ہے کہ میری نقل سے مقصود، ان پر الزام ہے نہ کہ میری تسلیم ۔ اس کے علاوہ بشری کے ص۱۳۶ پر موٹے خط سے ”سفرنگ وسا تیرہ“ کی سرخی لکھی ہے اس کے نیچے صحائف وساتیز سے متعلق تشریح کا لفظ ہے اس کے بعد وضاحت کے لئے لکھا ہوا ہے۔ صحائف وسا تیر کا انداز بیان اور طرز نگارش کیا ہے؟ پہلے اس کی وضاحت کر دی جائے تا کہ آئندہ باتوں کے سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے وساتیر میں سولہ صحیفے یا نامے ہیں جو علیحدہ علیحدہ ایرانی پیغمبروں کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں ہر صحیفہ میں ایک پیغمبر نے مستقبل کی بابت پیشین گوئیاں کی ہیں اور اپنے بعد آنے والے نبی کی خبر دی ہے۔ مذکورہ بالا انتخاب کا ماخذ سامان پنجم کا صحیفہ ہے یہ صحیفہ وساتیر کی آخری کڑی اس کے بعد اہل ایران میں نہ کوئی صحیفہ و ساتیر میں زیادہ ہوا اور نہ ہی کسی نے دعویٰ نبوت کیا انتہی بلفظہ ۔ اسی طرح میری مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جن کو ایرانی لوگ پیغمبر کہتے تھے اور میں اپنے قول کی مندرجہ ذیل تو جیہات پیش کرتا ہوں ۔ (الف) میں نے ایرانیوں کے ہم مذہبوں پر احتجاج کے طریق پر انہیں کے زعم کے مطابق ایسا کہا ہے کہ جن کو یہ لوگ پیغمبر مانتے ہیں اور ان کی پیشینگوئیوں کو حق جانتے ہیں انہیں کی کتب میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا ذکر ہے۔ لہذا ان کو سر کا ر کا غلام بن جانا چاہئے ۔ اور سرکار کا دین ان ایرانیوں کے پیغمبر منوانے کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔ لہذا ان کو بھی انہیں پیغمبر نہ ماننا چاہئے جیسا کہ آیت فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَى كَوْكَباً قَالَ هَذَا رَبِّي ) (سورہ انعام-۷۲) کی تشریح میں حاشیہ جمل علیٰ الجلالین میں یہ قول منقول ہے: ان ابراهیم علیه السلام قال ذالک علی وجه الاحتجاج على قومه يقول هذار بی بزعمكم [الفتوحات الالهيه الشهير بالجمل ، ج ۲،سوره انعام آیت-۷۶ ،ص ۳۸۳] (ب) یہاں پر ایرانیوں کے کہے ہوئے پوشیدہ ہے جیسا کہ اسی آیت کی تشریح میں اسی حاشیہ جمل میں یہ قول منقول ہے: ان في هذه الآية اضمار يقولون اى قال يقولون هذا ربی [الفتوحات الالہیہ الشهير بالجمل ، ج ۲،سوره انعام آیت-۷۶ ،ص ۳۸۳] (ج) مراد یہ ہے کہ اگر بالفرض (صرف صورۃ نہ کہ اعتقادا) اسے تسلیم کیا جائے تو یہی لازم آئیگا کہ سرکار نبی برحق ہیں اور آپ کا دین، دین حق ہے اور دین مجوسی باطل ہے جیسا کہ اسی آیت کی تشریح میں حاشیہ شیخ زادہ علی البیضاوی میں ہے: ای علی سبیل التسليم صورة لاجل سبيل الاخيار عن معتقده (الشيخ زاده تکمله ج ۱، ص ۱۸۱) لہذا ان اقوال کے نقل کرنے سے میرا تسلیم کرنا لازم نہیں آتا۔ اور نہ ان کی اصطلاح کے اعتبار سے لفظ نبی نقل کرنے سے میرا تسلیم کرنا لازم آتا ہے تو مجھ پر تجدید ایمان و تجدید نکاح وکفریات سے توبہ کرنا لازم آتا ہے؟ اور اگر لازم نہیں آتا ہے۔ اور مجھ پر زبردستی الزام لگایا جاتا ہے تو ایسے الزام لگانے کا کیا حکم ؟ اور جہالت و نا سمجھی کی بنا پر الزام لگانے والے کا کیا حکم ہے؟ اور کیا اس سے انبیاء علیہم السلام اور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ سلم کی تو ہین ہوتی ہے؟ الجواب: (۲ تا۵) بشری کی عبارت ملاحظہ ہو ئیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ مصنف محض ناقل ہے اور محض نقل یا ترجمہ میں غلطی سے اس کی تکفیر نہیں ہوسکتی۔ محض ناقل کو جس نے قائل بنایا اور اسپر فتوی کی بنا پر ناقل و مصدق کی تکفیر کی وہ خود اس کے حکم میں گرفتار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ ؍ ربیع الاول ۱۳۹۹ھ الجواب صحیح والمجیب صحیح۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر مصطفی رضا غفرلہ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم تحسین رضا خاں غفرلہ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی ۱۵ ربیع الال ۱۳۹۹ھ