حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لفظ مہادیو استعمال کرنے کی ممانعت اور حکم
ایک شخص نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو مہادیو“ کہا اور دوسرے نے کہا کہ حضور الصلاة والسلام کو ” مہادیو" کہنا یہ حضور کی نعت ہے اور مہادیو کا ترجمہ ملائک سیرت ہے تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ کیا حضور علیہ الصلاۃ و السلام کو مہادیو" کہنا جائز ہے؟ اور کیا ”مہادیو کا ترجمہ ملائک سیرت صحیح ہے؟
سوال۔ ۳: ایک شخص نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو مہادیو“ کہا اور دوسرے نے کہا کہ حضور الصلاة والسلام کو ” مہادیو" کہنا یہ حضور کی نعت ہے اور مہادیو کا ترجمہ ملائک سیرت ہے تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ کیا حضور علیہ الصلاۃ و السلام کو مہادیو" کہنا جائز ہے؟ اور کیا ”مہادیو کا ترجمہ ملائک سیرت صحیح ہے؟ جواب: جس نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو مہادیو کہا اور جس نے یہ کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو مہادیو کہنا حضور کی نعت ہے، دونوں تو بہ کریں تجدید ایمان کریں۔ وہ جھوٹا ہے جس نے کہا کہ مہادیو کا ترجمہ ملائک سیرت ہے اور اگر کوئی ایسا لفظ بھی کہا ہوتا جس کا ترجمہ ملائک سیرت ہوتا تو یہ بھی حضور کی نعت نہ ہوتی کہ حضور ہی اصل ہیں ملائک حضور ہی کے نور سے ہیں ان کی سیرت حضور کا فضل ہے۔ تشریح مصنف : ہندؤوں کی سنسکرت کی کتاب ”بھوشی ایران‘ میں جو و یاس کی طرف منسوب ہے نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام اور بعض دوسرے انبیاء علیہم السلام کے نام پاک آئے ہیں ہندؤوں کو اعتراض ہے کہ یہ مسلمانوں کے نبیوں کے نام ہیں اس کتاب میں وہ نام کیسے آگئے ہیں اس کے بارے میں ان میں اگر چہ اختلاف ہے، میں نے اپنی کتاب میں سنسکرت کے چند ایسے اشلوکوں کے مضمون کو نبی کریم علیہ السلام کے ذکر پر محمول کیا ہے۔ جہاں نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کا نام پاک اعراب کے اختلاف کے ساتھ موجود ہے اور جس کو ہنود نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کا نام ہونا بتاتے ہیں۔ اسی مقام پر سنسکرت کی عبارت میں ایک لفظ ” مہادیو آیا ہے اس سنسکرت لفظ کے معنی کی کیسے تعین ہوگی ۔ آیا قرآن و حدیث یا دوسری کتب عربیہ سے ہوگی۔ یا سنسکرت کی کتب سے؟ اگر اس کے معنی کی تعیین سنسکرت کی کتب سے کی جاتی ہے تو سنسکرت زبان میں دیو کے معنی منور اور نورانی کے آتا ہے جیسا کہ سنسکرت کی مستند لغت’وا تم میں دیو کے معنی میں ذکر کیا ہے ( ج ۵، ص ۳۶۷۵) یعنی دیولفظ منور کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اور نرکت نام کی کتاب میں دیو لفظ کے بارے میں دینا دوا ( باب ۷ ، فصل ۴) یعنی یا تو دیولفظ دین سے جس کے معنی دوش کرنا ہے۔ ماخوذ ہے۔ اور مہت کے معنی کثیر اور عظیم کے آتے ہیں۔ جیسا کہ واچ تم میں ہے : مہت وپہلے ورد ھے۔ ( ج ۶، ص ۴۷۴۰) مہت لفظ کثیر اور عظیم کے معنی میں آتا ہے۔ اور مہاد یو لفظ انہیں دونوں لفظوں سے ترکیب توصیفی کے ایک مخصوص طریقہ کرم و دھاری کماس سے بنا ہے جیسا کہ اسی لغت میں ہے مہادیو کرم ( ج ۶، ص ۴۷۴۱) یعنی مہاد یولفظ مذکر ہے۔ اور کرم دھاری سی لیں نام کی ترکیب توصیفی کے مخصوص طریقے سے بنا ہے۔ اس عبارت سے مہاد یو لفظ کے معنی بہت منور کے ہوئے۔ نیز انتصر وید کے منتر میں آئے ہوئے لفظ مہادیو کے معنی میں سنسکرت پنڈت جسے دیو شرما نے اپنی شرح میں لکھا ہے سب سے بڑا تجسوی (جا، ص ۴۴۰) یعنی سب سے بڑا نورانی۔ چونکہ ملائکہ نور نور کے ہوتے ہیں اور ظلمت گناہ سے پاک ہوتے ہیں۔ اس لئے اس مہاد یو لفظ کا ترجمہ ملائک سیرت کیا گیا۔ سائل نے لفظ ”مہادیوں کے بارے میں سوال تو کیا لیکن یہ ظاہر نہ کیا کہ یہ لفظ سنسکرت زبان کی عبارت میں موجود ہے۔ اس سے یہی مقصد سمجھ میں آتا ہے کہ لفظ ”دیو فارسی میں بھوت اور شیطان کے معنی میں آتا ہے اور یہی اردو میں مستعمل و متبادر و معروف ومشہور ہے اس سے مفتی کے ذہن میں یہی معنی متعین ہو جائیں گے اور ان کو فتویٰ حاصل کرنے میں آسانی ہوگی اور یہی ہوا حالانکہ سنسکرت زبان میں بھوت اور شیطان کے لئے ” دیٹی“ کا لفظ بولا جاتا ہے اور ” مہادیو کا لفظ جو آیا ہے وہ بشری کے ص۱۶۱، پر منقول سنسکرت کی عبارت کے متعلق ص ۱۵۶ کی اردو عبارت میں آگیا ہے۔ اس سے پہلے ص ۱۵۵، پر و یاس جی“ کی سرخی کے تحت لکھا ہوا ہے یہ اہل ہنود کے زبر دست مسلمہ رشی ہیں انہوں نے اپنی ایک مشہور اور مستند کتاب یعنی بھوشی ویران میں آنے والے واقعات کو قلمبند کیا ہے۔ بھوشیہ پر ان پرتی سرگ پرو ۳ کھنڈ ۳ ادھیائے ۱۳ شلوک ۵ سے ۸ تک انتبجی بلفظہ ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ دوسرے کی عبارت ہے میری نہیں ہے۔ اگر غلطی ہوگی تو ہندووں کے مہارشی کی تعبیر کی غلطی ہوگی نہ کہ میری۔ لہذا یہ عرض ہے کہ (الف) سنسکرت میں دیو کے معنی وہ نہیں ہیں جو فارسی یا اردو میں ہیں ”دیو سنسکرت کا لفظ ہے جو ”دین“ سے ماخوذ ہے۔ سنسکرت میں جس کے معنی دوش کرنے کے ہیں اور دیو کے معنی دبیت معنی منور کے ہیں اور ”مہا ” بہت کی ایک شکل ہے جس کے معنی عظیم“ کے ہیں اس طرح مہادیو کے معنی سب سے بڑا تجسورہ یعنی سب سے بڑے نورانی کے ہوئے تو کیا صرف ملائک سیرت لکھ دینے سے مجھ پر تجدید ایمان و تجدید نکاح وکفریات سے تو بہ لازم آئیگی؟ (ب) ایک زبان میں کسی لفظ کے معنی اچھے ہوں اور اس زبان کے اعتبار سے اس لفظ کو استعمال کیا جائے تو کیا اس لفظ کے دوسرے زبان میں ہونے والے خراب معنی کو مراد لے کر تو ہین کا الزام لگایا جاسکتا ہے اور اس ناقل سے تجدید ایمان و تجدید نکاح وکفریات سے تو بہ کا مطالبہ ہوسکتا ہے؟ (ج) کسی ناقل نے اس لفظ کو نقل کیا اور اپنی دانست کے اعتبار سے اس کا ترجمہ کیا خواہ ترجمہ غلط ہی سہی اس نقل اور غلط ترجمہ کی بناء پر تجدید ایمان و تجدید نکاح وکفریات سے تو بہ لازم آئیگی؟ اور کیا اس صورت میں انبیاء علیہم السلام اور سرور کائنات علیہ الصلاۃ والسلام کی توہین ہوتی ہے۔ سوال۔ ۴: کیا ہندووں کورشی یا مہارشی کہنا ایک مسلمان کے لئے جائز ہے ایک مقرر کی عادت ہوگئی ہے کہ وہ ہندووں کو اپنی تقریر میں بطور احترام رشی جی یا مہارشی جی کہا کرتا ہے۔ ایسے مقرر کے لئے کیا حکم ہے؟ جواب: غیر مسلم تو غیر مسلم فاسق کی مدح سرائی ناجائز ہے ،حدیث میں ہے: اذا مدح الفاسق غضب الرب و اهتز له العرش اس حدیث کو دیکھ کر وہ مقرر تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ ہوالہادی دھوتعالیٰ اعلم ۔ تشریح مصنف: میں نے پہلے لکھ دیا ہے کہ یہ اہل ہنود کے زبر دست مسلمہ رشی ہیں (ص ۱۵۵) اور صرف ہندووں کو تسلیم کرنے کے لئے ان کی اصطلاح کی بنا پر رشی یا مہارشی لکھا نہ کہ یہ میرا تسلیم ہے۔ اور یہ مجھ پر جھوٹا الزام ہے کہ میں بطور احترام رشی یا مہارشی کہتا ہوں جیسے سائل نے سوال میں ہندووں کو سادھو“ کہا اور دوسرے لوگ کہتے ہیں ”مولوی اشر فعلی تھانوی“ اور ”مرزا غلام احمد قادیانی“ وغیرہ حالانکہ سادھو کے معنی صوفی فقیر یا نیک آدمی کے ہیں اور یہ کلمہ تحسین ہے ( ہندی اردوافت ص ۲۲۹) سوال-۵: کیا حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کو اوتار کہہ سکتے ہیں؟ جواب: انبیا علیہم السلام کو اوتار کہنا سخت نہایت بدتر ہے یہ ہندووں اور روافض کے فرقہ ملولیہ کا عقیدہ باطل فاسد کا سر خیال عاطل ہے۔ ہندو اوتار اسے کہتے ہیں جس میں ان کے نزدیک خدا نے حلول کیا اور روافض مولیٰ علی میں حلول مانتے ہیں۔ اس شخص پر تو بہ فرض ہے اور تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم تشریح مصنف: یہ مجھ پر جھوٹا الزام اور سراسر کذب و بہتان ہے کہ میں نے انبیا کرام کو اوتار کہا ہے۔ میں نے بشری میں کھیل پر گرن کی سرخی کے تحت اسکی عبارت نقل کی ہے جس میں اوتار کا لفظ آیا ہے اور ترجمہ میں بھی وہی اوتار کا لفظ نقل کر دیا ہے۔ اس لفظ سے میں نے کوئی استثنا نہیں کیا ہے بلکہ اس عبارت کے اندر ” بیچو بیچ اور تعریف کیا گیا سے استثناء کیا ہے۔ (بشری ص ۱۵۴۵) میں یہ عبارت موجود ہے کہ لہذا بات صاف ہو گئی جس کو عربی میں محمد کہا گیا ہے اسی کو سنسکرت زبان میں ہر پر شو تم“ کہا گیا ہے اور اس منتر میں جس مخصوص نشانی کا تذکرہ ہے اس کی مصداق صرف اور صرف ذات رسالت مآب ہے اور اس وصف خصوصی میں کوئی بھی دوسرا شریک و سہیم نہیں ۔ وہ مخصوص نشان یہ ہے کہ وہ تعریف کیا گیازمین کے بیچو بیچ میں پیدا ہو گا۔ اس نشان کو بغور ملاحظہ کرتے ہوئے اس پر بھی ذراغور کیجئے مکہ مکرمہ کا ایک بہت مشہور نام ام القری ہے جس کے معنی میں دنیا کی کل آبادی کی ماں اور اصل ۔ انتہی بلفظه یہاں لفظ اوتار سے کوئی استثنا نہیں کیا ہے تو کیا ایسی حالت میں مجھے اوتار کہنے کا الزام دیا جا سکتا ہے اور اس بنا پر مجھ پر کفر عائد ہو سکتا ہے اور کیا اس میں بطور نقل لفظ او تا رلکھ دینے سے مجھ پر کفر عائد ہو جائے گا اور تجدید ایمان و تجدید نکاح وکفریات سے تو بہ لازم آئیگی؟ صرف نقل کی وجہ سے اگر مجھ پر کفر لازم نہیں آتا تو زبردستی کھینچ تان کر مجھ پر کفر کا الزام لگانے کے لئے مجھے قائل قرار دے کر فتوی حاصل کرنے والے کا کیا حکم ہے اور مشتہر کا کیا حکم ہے؟ یا جہالت و نا سمجھی سے ایسا الزام لگایا تو کیا حکم ہے؟ نہیں تو ایسا حکم لگانے والے کا کیا حکم ہے؟ اور کیا ایسی صورت میں انبیاء کرام علیہم السلام اور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہوگی؟ اور کیا اس کے مصدق کی صرف تصدیق کی بنا پر تکفیر ہو جائیگی؟ اور ایک مولوی صاحب نے اس کی تصدیق کرنے کی وجہ سے ان سے یہ بھی کہا کہ تمہارا حج برباد ہو گیا نکاح باطل ہو گیا۔ بیعت ٹوٹ گئی جن لوگوں نے تم سے بیعت کی سب فسخ ہوگئی ۔ آپ سے تجدید ایمان و تجدید نکاح و کفریات سے تو بہ کرا کر رہوں گا تم نے مجھ سے توبہ کرائی ہے لہذا میں تم سے تو بہ کرا کے رہوں گا۔ کیا مصدق پر بھی تجدید ایمان و تجدید نکاح وکفریات سے تو بہ لازم آئیگی یا نہیں؟ اگر لازم نہیں آئیگا تو ایسا کہنے والے اور لکھنے والے پر شرعا کیا حکم ہوگا ؟ بینوا توجروا۔ الجواب: لمستفتی: محمد نعمت اللہ غفرلۂ حامدی در یا مسجد اله آباد محرم الحرام ۱۳۹۹ھ (1) شعر مندرجہ کی تاویلات نہایت بعیدہ ہیں لہذا نا مسموع ہیں۔ علماء فرماتے ہیں: ،، التاویل فی لفظ صراح لا يقبل (1) اور فرماتے ہیں: ،، المراد لا یدفع الايراد “(۲) علامہ شامی رد المحتار میں امام علامہ نسفی سے ناقل ہیں: مجرد ایهام المعنى المحال كاف في المنع عن التلفظ بهذا الكلام “ (۳) جزئیہ مذکورہ سے صاف ظاہر کہ مجر دایھام ہی ممانعت کے لئے کافی ہے تو ” تصویر بنا کر قلم چھوڑ دیا ہے مجر دا ھام کی حد سے متجاوز ہے لہذا حضرت مفتی اعظم ہند مدظلہ العالی کا اس شعر سے تو بہ کا حکم برحل ہے جسے تاویل دفع نہیں کر سکتی۔ مزید برآں قلم کی وہ تاویل خلاف ظاہر ہونے کے علاوہ حدیث مشہور : کتب الله مقادير الخلائق (۲) کے مخالف ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) الشفا بتعریف حقوق المصطفى ج ۲، ص ۳۵۷، الباب الرابع فی بیان ماهو في حقه صلى الله علیه وسلم، المكتبة العصرية بيروت (4) منحة الخالق على البحر الرائق شرح كنز الدقائق ج ۲، ص ۵۶۱، کتاب الحج باب الاحرام، مطبع زکریا بکڈپو (۳) رد المحتار، ج ۹، ص ۵۶۷ ، فصل فی البيع، دار الكتب العلميه، بيروت (۴) الصحيح المسلم كتاب القدر باب حجاج آدم و موسى ج ۲ ص ۳۳۵، مطبع مجلس برکات مبارکپور / مشكوة المصابيح، ص ۱۹، باب الايمان بالقدر، الفصل الاول مطبع مجلس برکات مبارکپور یہ تو نفس شعر کے متعلق حکم شرعی تھا جس کا منشا اطلاق لفظ میں احتیاط ہے تو تو بہ کا حکم ضرور احتیاطی ہے۔ مگر اس سے یہ سمجھ لینا کہ معاذ اللہ تو بہ کا حکم قاتل کے یقینا کا فر ہونے کا حکم ہے۔ کلام متین و متعین و تکفیر فقہی و تکفیر کلامی کے فرق سے بے خبری ہے اور فقہاء کے ارشاد واجب الانقیاد : " لا یفتی بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره خلاف ولو رواية ضعيفة (1) سے ناواقفی ہے ورنہ تکفیر کی جرات نہ ہوتی۔ پھر مصدق کی تکفیر جرات بالائے جرات ہے۔ یہ از خود کیسے طے کر لیا کہ مصدق نے یہ شعر دیکھا اور اس کو مقر رکھا بلکہ رجم بالغیب ہے کہ شعر محتمل اور مراد خود قائل کی نامعلوم ، چہ جائیکہ مصنف کی مراد معلوم ہو بلکہ مصنف سے یہی حسن ظن ہے کہ ہرگز ان کے ذہن میں معنیٰ کفری نہ آئے ہوں گے پھر مصدق کے بارے میں کیا گمان ہے جبکہ اس کی احتیاط شہرہ آفاق ہے بالجملہ مصنف و مصدق کی تکفیر بڑی جرات کی بات ہے جس سے تو بہ کا حکم ہے۔ اور فتویٰ سے تکفیر سمجھنا اس کا حال کھل چکا۔ واللہ تعالی اعلم (۲ تا۵) بشری کی عبارت ملاحظہ ہو ئیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ مصنف محض ناقل ہے اور محض نقل یا ترجمہ میں غلطی سے اس کی تکفیر نہیں ہوسکتی۔ محض ناقل کو جس نے قائل بنایا اور اسپر فتوی کی بنا پر ناقل و مصدق کی تکفیر کی وہ خود اس کے حکم میں گرفتار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ ؍ ربیع الاول ۱۳۹۹ھ الجواب صحیح والمجیب صحیح۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر مصطفی رضا غفرلہ تحسین رضا خاں غفرلہ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی ۱۵ ربیع الال ۱۳۹۹ھ