بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکل کر میکے چلے جانے کا حکم
دیگر احوال اس طور پر ہے کہ میں ایک پولیس کانسٹبل ہوں، دموہ ضلع کی (ہٹہ ) تحصیل میں تعینات ہوں بتاریخ ۲۲ / دسمبر ۱۹۸۳ء میں ہٹہ تھانے میں ڈیوٹی پر تھا میرے ابا اماں دموہ نیا بازار نمبر ایک میں رہتے ہیں انہیں کے پاس میری بیوی ماں باپ بھائی بہن کے ساتھ رہتی تھی۔ بتاریخ ۲۳ / دسمبر ۱۹۸۳ء قریب شام کے ۷ ربجے میری غیر حاضری میں میرے ۲ رسالے ہمراہ چارغنڈے دیگر قوم کے میرے گھر میں گھس کر میری بیوی کھانا بنارہی تھی ( روٹیاں بیل رہی تھی ) اس کا بڑا بھائی شیخ مختار بولا چلو منی چھوڑ دو اس نے اسی وقت روٹی چھوڑ کر کھڑی ہوکر میرے ماں باپ بھائی بہن کی بغیر اجازت سے اپنے بھائی و ہمراہ غنڈوں کے ساتھ سیدھی گھر کے باہر چلی گئی۔ جاتے وقت ہماری ماں بہنوں کو گندی گالیاں دیتے ہوئے چلے گئے جبکہ پڑوسیوں ورا بگیروں نے اس بات پر اعتراض کیا اسی وقت میری ماں پولیس کو تو الی میں رپورٹ کی جس کی تفصیل چالو ہے۔ آپ مجھے اسی خط کے ذریعہ راہ بتلانے کی مہربانی کریں۔ میری شادی شیخ عبدالرحمن کی دختر شہناز بیگم کے ساتھ ۱۹ مئی ۱۹۸۳ء کو خاص دموہ میں ہوئی تھی آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ کیا یہ بات مذہب کے خلاف تو نہیں ہے اس بات کی شہرت دموہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ آپ مجھے اجازت دینے کی مہربانی کریں میں نوکری والا انسان ہوں جو آنے سے مجبور ہوں ، آپ مجھے معاف کرنا۔ خدا حافظ! المستفتی: عبدالشریف پولیس کمیٹی ۱۰۰ ہٹہ پولیس تھانہ (ہٹہ ) ضلع دموہ ، مدھیہ پردیش
الجواب: آپ کا نکاح اس سے قائم ہے بشرطیکہ آپ نے اسے طلاق نہ دی ہو۔ لہذا آپ کو اسے رکھنے کا اختیار ہے اگر چہ وہ سخت گناہگار ہوئی جبکہ بلاوجہ شرعی ناراض ہو کر گئی ہو اور اسے شوہر سے بگاڑنے والے بھی سخت گناہگار ہوئے ، ان پر تو بہ فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۸ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۴ھ