سگی بہن کی موجودگی میں دوسری بہن سے نکاح (جمع بین الاختین) اور اس سے حلالہ ہونے کا حکم
ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی وہ عورت حاملہ تھی ۔ لہذا اس کے والد اپنے ساتھ اس کو لے آئے ، دو ایک ماہ کے بعد عورت کے بچہ ہوا پھر حیض و نفاس کے بعد اس عورت کا نکاح حلالہ سگے بہنوئی کے ساتھ ہوا جب کہ اس کی سگی بہن اس کے نکاح میں موجود ہے، لہذا اس کے متعلق شرع میں کیا حکم ہے۔ نیز اس نکاح کے وکیل اور شاہد تینوں بے شرع تھے، لہذا اہندہ اور وہاں موجود ہونے والوں پر کیا حکم شرعی عائد ہوتا ہے اور صبح کو وہ عورت اس کے ساتھ چلی گئی جو اس کا پہلا شو ہر تھا، ۔ اس کا جواب قرآن وحدیث کی رو سے عنایت فرما ئیں ۔ عین نوازش ہوگی ! المستفتی: محمد سلیم سواپتی موضع منڈلیا فوٹو ڈاکخانہ خاص، ضلع پیلی بھیت
الجواب: صورت مسئولہ میں یہ نکاح بیوی کی حقیقی بہن سے ہوا اور بیوی کی حقیقی بہن سے نکاح حرام و گناہ ہے۔ قال تعالیٰ: {وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الأُخْتَيْنِ} (1) نکاح مذکور فاسد ہوا اور اس میں جو واقف حال شریک ہوئے سب گناہ گار مستوجب نار ہوئے اور مردوزن بھی اشد گناہگار ہوئے۔ ان سب پر تو بہ فرض ہے اور فور امتار کہ فرض ۔ متارکہ یہ ہے کہ مرد کہے کہ میں نے اسے چھوڑ دیا ، یا عورت کہے میں اس سے جدا ہوئی ۔ اور اس نکاح سے عورت شوہر اول کو حلال نہ ہوئی اور اگر بہنوئی نے بعد نکاح اس سالی سے جماع کر لیا تو اسے بعد متارکہ وجدائی اس کی عدت گزرنے تک اپنی بیوی کو بھی ہاتھ لگانا جائز نہیں۔ رد المحتار میں ہے: وله وطئ الاولى الا ان يطأ الثانية فتحرم الاولى الى انقضاء عدة الثانية كمالووطئ (1) سورة النساء-٢٣ اخت امرأته بشبهة حيث تحرم امرأته مالم تنقض عدة ذات الشبهة ح عن البحر (۱) والله تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۰ رصفر المظفر ۱۴۰۵ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی