ایک شادی شدہ عورت کا دوسرے شخص سے نکاح اور جھوٹی شہادت کے احکام
یعنی کہ مہینہ ۲۵ روپے آتا رہا۔ دو یا تین سال کے بعد ابو طاہر خاں کی طرف سے ایک لڑکا شیرن بی بی کا تولد ہوا اور اسی طرح قریب ۱۶ ارسال کے بعد نواب علی اپنے سابق مکان کو آئے فی الحال نواب علی اپنی سابق بیوی کے پاس رہتے ہیں اور شیرن بی بی فی الحال ابو طاہر خاں کے ساتھ رہتی ہے ابھی نواب علی شیران بی بی کو طلاق نہیں دئے۔ (1) ایسی حالت میں ابوطاہر خاں جونکاح کئے ، وہ صحیح ہے یا غلط؟ (۲) اگر غلط ہو تو ابوطاہر خاں اور شیرن بی بی پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۳) یہ جو دس آدمی جھوٹی شہادت دے کر شیرن بی بی کا نکاح ابو طاہر خاں سے کئے ، ان لوگوں پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۴) فی الحال ابو طاہر خاں اور شیرن بی بی ایک ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں؟ (۵) نواب علی کے خط و کتابت اور روپیہ آنے کے بعد جولڑ کا ابو طاہر خاں کی طرف سے تولد ہواوہ لڑکا صحیح ہے یا غلط ، یعنی حرامی ہے یا حلالی؟ صاف صاف فرما ئیں ۔ فقط والسلا المستفتی: محمد شکور
الجواب: (1) صورت مسئولہ میں یہ نکاح فاسد ہوا، نواب علی کی حیات کے علم کے بعد متارکہ فرض تھا یعنی ابو طاہر خان یہ کہتا کہ میں اس عورت سے جدا ہوا یا وہ کہتی کہ میں اس سے جدا ہوئی۔ اس فرض میں تاخیر حرام ہے جس سے تو بہ لا زم ۔ اب معلوم ہونے کے بعد بھی دونوں میاں بیوی کی طرح رہے تو زنا میں گرفتار ہوئے اور بعد علم قربت سے جو بچہ پیدا ہوگا وہ حرامی ٹھہرے گا۔ برخلاف اس کے جو قبل علم قربت سے پیدا ہو کہ وہ ثابت النسب قرار پائے گا اور یہ اس صورت میں ہے کہ جب ابو طاہر خاں کو گواہوں کے جھوٹ ہونے کا علم نہ ہو۔ ورنہ سرے سے یہ نکاح باطل اور قربت خالص زنا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) دونوں پر تو بہ فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) سب گناہ گار مستحق غضب جبار مستوجب عذاب نار۔ سب پر تو بہ فرض ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) ہرگز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) جواب پہلے نمبر میں گزرا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم