عورت کے منکوحہ غیر ہونے کا علم ہونے پر نکاح منعقد نہ ہوا اور علم ہوتے ہی متارکہ فرض
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: محمد نعیم نے اپنی لڑکی کی شادی محمد شکور کے لڑکے سے چند دن قبل کرائی ، ابھی لڑکی کی رخصتی بھی عمل میں نہیں آئی تھی کہ بعض معاملات کی وجہ سے دونوں میں نا اتفاقی ہو گئی اور نوبت مقدمہ بازی تک آگئی تا آنکہ محمد نعیم نے عدالت میں اس مضمون کی درخواست دی کہ محمد شکور کے لڑکے نے ان کی لڑکی کو طلاق دے دی ہے۔ ثبوت میں محمد یوسف اور دیگر دو مسلمانوں کی شہادت ثابت ہے۔ عدالت نے لڑکے کے بیان اور تین مسلمانوں کی شہادت طلاق کے پیش نظر محمد نعیم کی لڑکی کو مطلقہ ہونے کی ڈگری دے دی جس کی بنیاد پر بعد انقضائے عدت محمد نعیم نے اپنی لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کر دیا۔ لیکن چند دنوں کے بعد یہ راز کھلا کہ محمد یوسف اور ان کے ساتھ دو مسلمان نے طلاق کے متعلق بالکل جھوٹی اور غلط گواہی دی تھی جس کا اقرار خود ان لوگوں کو بھی ہے اور بستی کے دوسرے لوگ بھی اس کو جانتے ہیں۔ تواب دریافت طلب امر یہ ہے کہ لکھیا اور سماجی پنچایت کے سامنے طلاق کے متعلق جھوٹی گواہی دینے والے محمد یوسف اور دیگر دو مسلمان ( عند الله وعند الرسول جل وعلی وصلی اللہ علیہ وسلم ) مجرم ہوئے کہ نہیں؟ اس وقت جبکہ عدالت شرعیہ قائم نہیں ہے، مسلمانوں کی پنچایت ان تینو ں مسلمانوں کے ساتھ کیا برتاؤ کرے؟ اور کیا ان میں سے کسی کے پیچھے مسلمانوں کو نماز پڑھنا شرعا مناسب ہے؟ اور عند الشرع ان کی امامت کیسی ہے؟ بینوا وتوجروا۔ فقط ! لمستفتی: غلام محمد
الجواب: جھوٹی گواہی دینے والا سخت مجرم اشد گناہ گار مستحق نار، اس پر تو بہ لازم ہے، جب تک تو بہ نہ کرے، شرعاً قطع تعلق اس سے فرض ہے یہاں حکم انکا ہے جنہوں نے منکوحہ غیر کا نکاح دوسرے سے کیا اور جو واقف حال اس میں شریک ہوئے ، شوہر کو حال اگر معلوم تھا تو سرے سے نکاح ہی نہ ہوا اور قربت خالص زنا اور اگر معلوم نہ تھا تو جب معلوم ہوا، اسی وقت سے متارکہ یعنی جدائی فرض ، جس میں تاخیر گناہ اور تو بہ لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله