رمضانی کا اپنی ممانی (وارث کی بیوی) سے نکاح اور طلاق کے ثبوت کے بغیر نکاح کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ: رضا نے اپنی ایک بہن کو وارث کے ساتھ نکاح کر دیا تھا۔ اس عورت سے ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ اس لڑکی کا وارث نے اپنی بہن کے لڑکے کے ساتھ نکاح کر دیا۔ یعنی رمضانی جو کہ وارث کا بھانجہ ہے۔ اس کے بعد وارث کی عورت مرگئی ۔ یعنی رضا کی بہن ۔ بعد میں جب رضا کی بہن مرگئی پھر رضا نے اپنی لڑکی کو وارث کے ساتھ یعنی بہنوئی کے ساتھ نکاح کر دیا اور وارث نے اپنی لڑکی کو اپنے داماد ( بھانجے ) کے گھر نہیں بھیجا۔ یعنی روک رکھا۔ رمضانی وارث کی عورت کو ( دوسری ) جو کہ رضا کی لڑکی ہے اور رمضانی کی ممانی ہے، اپنے ساتھ لے کر بھاگ گیا اور نکاح کر لیا۔ یہ شرعاً جائز ہے یا ناجائز ؟ وارث کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی عورت کو طلاق نہیں دی ہے۔ رمضانی کا کہنا ہے کہ وارث نے طلاق دے دی ہے۔ مگر تحریری ثبوت کچھ نہیں۔ لہذا علمائے کرام سے پرزور اپیل ہے کہ مہربانی فرما کر خدا و رسول کو حاضر و ناظر رکھتے ہوئے قرآن وحدیث کی روشنی میں صحیح فیصلہ دینے کی زحمت کی جائے۔
الجواب: المستفتی: محمد اسلام بیٹری مرچنٹ نتی بازار محلہ پوروا پوست تمسی پور ضلع گونڈہ سوال فرضی ناموں مثلا زید و عمر و بکر سے کرنا چاہئے کہ یہی ادب سوال ہے۔ زواجر میں ہے: ”الافضل ان يبهمه ) بر تقدیر صدق سوال جبکہ وارث کی عورت کا مطلقہ ہونا ثابت نہیں ( کہ طلاق کا ثبوت بصورت انکارشو ہر دومرد عادل یا ایک مرد ، دو عورتیں عدول کی شہادت شرعیہ پر موقوف ہے ) رمضانی کو وارث کی بیوی سے نکاح حلال نہ تھا، مردوزن دونوں پر علیحدگی فرض ہے۔ اور تو بہ واستغفار لازم ہے ورنہ ہر واقف حال (1) الزواجر عن اقتراف الكبائر الكبيرة الثامنة والتاسعة والاربعون، المكتبة العصرية، لبنان، بيروت مسلمان ان سے مقاطعہ کر لے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله