رجعت کے بعد دوسرے نکاح کی شرعی حیثیت اور بددیانت قاضی کے بارے میں حکم
مدت تک رہی اسی دوران میں بیچے بھی ہوئے جو کہ اب وہ بچے بھی کئی بچے والے ہیں تب بھی یہی شریعت تھی ، آج تک ہمارا شریعت کچھ نہ کر سکی ، دنیا میں سیکڑوں عورتیں اس طرح رہ رہی ہیں، ان کا شریعت کیا کر رہی ہے؟ تم لوگ اسی طرح کمزوروں کو دباتے ہو لیکن میں تو اب تک کہیں دبا نہیں۔ (۲) جب کہ مسئلہ کے مطابق رجعت ہو چکی ہے اور گواہ موجود ہیں تو نکاح ثانی جائز ہے یا خلاف شرع؟ اگر دوسرا نکاح غلط ہوا تو لڑ کی ودوسرا شوہر اور نا نا پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۳) جبکہ قاضی محمد یعقوب کو سب باتیں معلوم تھیں کہ شوہر اول نے رجعت کر لی ہے پھر بھی زیادہ رقم کے لالچ میں دوسرا نکاح پڑھا دیا اور اس کے دو سال پہلے بھی انہوں نے ایک غلط نکاح پڑھایا تھا قوم کے بڑوں نے منع کیا لیکن رقم زیادہ کے لالچ میں نہیں مانا جس کی وجہ سے اب تک مسجد میں کوئی دسرا امام نہیں ہے اور جھگڑا چل رہا ہے۔ تمام مسلمانوں میں نفاق اب تک جاری ہے۔ ان کا یہ قاعدہ ہے کہ جب زائد رقم ملی غلط سلط نکاح پڑھا دیتے ہیں۔ انہیں کے کارناموں اور زیادتیوں کی وجہ سے تمام مسلمانوں میں بربادی بڑھتی چلی جارہی ہے اور مسجد کی بھی ویرانی بڑھتی جارہی ہے۔ بلا اجرت نماز جنازہ بھی نہیں پڑھاتے ہیں۔ لہذا ایسے قاضی جو روپیہ پیسہ ملنے پر شرع کے خلاف کام کریں، ان پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ وہ نماز پڑھانے یا امامت کے مستحق ہیں کہ نہیں؟ (۴) جب رجعت کے بعد نکاح ثانی درست نہیں تو جو لوگ نکاح میں شریک تھے یا جس نے نکاح پڑھایا جو وکیل و گواہ تھے، ان پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ اور وہ لوگ شریعت کے مطابق کس قسم کے مجرم ہیں؟ ہر مسئلہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کریں۔ مہربانی ہوگی ! المستفتی: شفیق احمد بن نذیراحمد قصبہ بھکاری پور ضلع پیلی بھیت
الجواب: بر تقدیر صدق سوال وصورت واقعہ فی الواقع شوہر جبکہ رجعت کر چکا ہے تو دوسرے سے نکاح اس عورت کا حرام قطعی ہوا اور اگر دوسرے شخص کو یہ معلوم تھا کہ عورت منکوحہ غیر ہے تو سرے سے نکاح ہی نہ ہوا اور جتنی قربت ہوئی ، خالص زنا اور اگر معلوم نہ تھا تو نکاح فاسد ہوا بعد علم متارکہ وجدائی فرض ہے اور تاخیر گناہ اور جولوگ دانستہ اس نکاح میں شریک ہوئے ، سب اشد گناہ گار ہوئے ،سب پر تو بہ لازم ہے اور لڑکی کے سوتیلے نانا پر تجدید ایمان و تجدید نکاح بھی لازم ہے کہ اس نے شریعت کی توہین کی ہے اور وہ نکاح خواں لائق امامت نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳۰ / رمضان المبارک ۰۲