بے طلاق دوسرا نکاح نہیں ہوسکتا !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : ممتاز نے اپنی الڑ کی کی شادی اپنے وطن میں کی۔ اور خود مع ہال بچوں کے یہاں تیلی پاڑہ میں مقیم ہیں ۔ لڑکی کا شوہر بار بار اپنی بیوی کو گھر سے نکال دیتا تھا جہاں لڑکی کو سہارا دینے والا کوئی بھی نہ تھا۔ آخری بار جب اس کے شوہر نے نکال دیا تو ممتاز کو معلوم ہوا ، وہ اپنی لڑکی کے یہاں گئے اور اس کو اپنے ساتھ لے آئے کچھ دنوں کے بعد اپنی لڑکی کی دوسری شادی کر دی۔ فی الحال اس کے کئی بچے بچیاں بھی ہیں۔ اب ممتاز اپنے وطن ( سلطانپور ) جانا چاہتے ہیں مگر لڑکی کے شوہر اول اور برادری کے لوگوں سے خوفزدہ ہیں اس لئے کہ شوہر اول نے طلاق نہیں دی تھی۔ دوسرے نکاح کے بارے میں تسلی بخش جواب دیں تا کہ اس پر عمل کر کے اطمینان کیا جاسکے۔
الجواب: المستلقي : ممتاز علی معرفت ماجد علی، تیلی پاڑہ ضلع ہو گی اگر یہ واقعہ ہے کہ شوہر اول نے طلاق نہیں دی ہے تو وہ عورت بدستور اس کی زوجہ ہے۔ شوہر اول کے سوا وہ کسی کو حلال نہیں۔ جس کے ساتھ یہ نام کا نکاح ہوا اگر اسے علم تھا کہ عورت منکوحہ ہے جب تو نکاح باطل ہوا اور قربت خالص زنا اور اگر علم نہ تھا تو نکاح فاسد ہوا اور بعد علم متارکہ وجدائی فرض ہوئی اور تاخیر گناہ اور علم کے بعد جو قربت ہوئی زنا ہوئی اور مرد و عورت زانی و زانیہ۔ دونوں پر تو بہ اور جدائی فرض اور جولوگ اس نکاح میں دانستہ شریک ہوئے اور جوان مردوزن سے راضی ہوں ، سب گناہ گار مستحق نار ہیں ، تو بہ کریں۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۸ شوال المکرم ۱۴۰۰ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی