طلاق سے مہر مؤجل مقتبل ہو جاتا ہے اور عند الطلب فوراً ادا لازم ہوتی ہے!
(1) زید نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہے بیوی ماں باپ کے پاس اپنے میکے میں ہے اب بیوی کے حقوق شوہر پر کیا ہیں۔ (۲) زید نے عدت کے وقت اخراجات کر دیے ہیں۔ (۳) زید کا مبلغ ایک ہزار روپیہ دو دینار سکہ رائج الوقت علاوہ نان ونفقہ پر ہوا ہے زید مہر ادا کرنے کو تیار ہے مگر طرفین میں دینار کے متعلق پہلے سے کچھ ملے نہیں تھا اب دونوں فریق میں دینار کو لیکر معاملہ بہت الجھ گیا ہے لہذا دینار کی فی الوقت قیمت کیا ہے دینار کو رقم میں لانے کی کیا صورت ہوگی اور اس کی اہمیت کیا ہے نیز دینا رو دینار سرخ اور اشرفی میں کیا فرق ہے اور اسکی الگ الگ کیا قیمت ہوگی؟ (نوٹ) دینار و دینار سرخ اور اشرفی کی قیمت کے متعلق تفصیل سے بیان کسی کتاب میں ہے اگر بہار شریعت میں ہے تو کون سے حصہ میں ہے؟ کتاب کا نام و پورا پتہ ارسال کرنے کی زحمت گوارہ کریں گے تو عین نوازش ہوگی ! المستفتی : عبد الحمید میاں ڈی کو بری ہزاری باغ
عدت کے مصارف دے چکا تو مہر کے سوا اسپر کچھ لازم نہیں ، طلاق سے مہر مؤجل مقتبل ہو جاتا ہے اور عند الطلب فورا ادا لازم ہوتی ہے لہذا اس کی ادائیگی میں تعجیل کرے اور اقل مہر کی مقدار دس درہم ہے اور دس درہم کا وزن دو روپے پونے تیرہ آنے اور پائی کا پانچواں حصہ ہے، اتنی مقدار کی قیمت موجودہ نرخ سے لازم ہوگی اور دینار کا وزن غالباً بہار شریعت حصہ دوم میں ہے اور دس درہم کا وزن حصہ ہفتم میں مسطور ہے(۱)۔ (۱) بہار شریعت جلد دوم، حصہ ہفتم ص ، ۵۵ ، قادری کتاب گھر بریلی اور فتاوی رضویہ میں دینار کا وزن مرقوم ہے (۱) ۔
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ شب ۹ صفر المظفر ۱۴۰۲ صح الجواب : واللہ تعالیٰ اعلم قاضی عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی