نکاح کا طریقہ اور امیر الحج کے فرائض سے متعلق سوالات
مکرمی و محترمی عالیجناب علامہ الحاج قبلہ از ہری صاحب ! سلام و رحمت امید ہے کہ مزاج گرامی مع جميع متعلقین و اعلیٰ حضرت حامی دین متین قبلہ محترم مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم العالیہ بخیر و عافیت ہوں گے اور نا چیز خادم کو دعا میں یا دفرماتے ہوں گے خدمت عالی میں التماس ہے کہ جن استفسار ان کے متعلق بار بار عرض کیا ہے، ان میں سے چند اہم استفسارات جن کے جوابات بہت ضروری ہیں، ارسال خدمت ہیں مہربانی فرما کر منسلکہ لفافے میں خصوصی توجہ فرما کر جوابات جلد از جلد عطا فرما کر ممنون فرمائیں۔ جمیع حاضرین متعلقین کی خدمت میں السلام علیکم پیر ومرشد قبلہ مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم العالی کی خدمت اقدس میں مؤدبانہ سلام علیک ۔ (۱) نکاح خواں دولہا سے یہ کہہ کر قبول کرائے کہ میں نے فلاں بنت فلاں کو فلاں فلاں گواہوں کی موجودگی میں اتنے مہر معجل / مؤجل کے عوض تمہارے نکاح میں دیا اور دولہا کہے کہ میں نے فلاں بنت فلاں کو اپنے نکاح میں بالعوض مہر اتنے کے قبول کیا اور میں اُس سے راضی ہوا، یہ طریقہ صحیح ہے یا غلط؟ آگاہ فرمائیں ! (۲) امیر الحج کے فرائض اور خدمات کیا ہیں؟ آگاہ فرمائیں! اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی تصنیف اسلامی زندگی کا ہدیہ کیا ہے؟ مکتبہ اعلی حضرت کی تمام کتب کی فہرست بھی روانہ فرما کر مشکور فرمائیں! خیریت و جواب کا منتظر احقر ناچیز محمد سرور میر عفی عنہ
الجوار مکرمی! سلام مسنون (1) صحیح ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) لوگوں کو حج کرانا اور نظم وضبط قائم رکھنا اور احکام کی تنفیذ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم اسلامی زندگی اعلیٰ حضرت کی تصنیف نہیں۔ مکتبہ اعلیٰ حضرت کی فہرست وہیں سے طلب کہ والسلام۔ از ہرتی غفرلہ