بغیر طلاق کے لڑکی کا دوسرا نکاح کرنا اور اس میں شریک ہونے والوں کا حکم
بے طلاقی بیٹی کا نکاح دوسرے سے کر دیا، کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: مسمی انفقو بخش ولد حسین بخش شیخ منصور موضع موہن پور ڈاکخانہ ضلع پیلی بھیت نے اپنی لڑکی کا بغیر طلاق مسی محمود حسین ولد شہراتی بخش شیخ منصور موضع بچپڑہ ڈاکخانہ خاص تھانہ بہیڑی ضلع بانس بریلی کے ساتھ نکاح کر دیا۔ اب شرع شریف کا جو حکم ہو، ارشاد فر ما یا جاوے۔ فقط ۔ زیادہ حدادب گواہان: نبی بخش ولد کفایت بخش شیخ منصور موضع موہن پورڈاکخانہ ضلع پیلی بھیت۔ نصیر احمد ولد بشیر احمد شیخ منصور موضع چٹیا تیاز احمد ڈاکخانہ ار یا ضلع پیلی بھیت۔ چودھری عبد اللہ موضع کرولا ، ڈاکخانہ ضلع پیلی بھیت۔ وحید احمد شیخ منصور موضع چٹی نیاز احمدڈاکخانہ ار یا تحصیل و ضلع پیلی بھیت۔ اتواری بخش، موہن پور، پیلی بھیت ۔
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۷ صفر المظفر ۱۴۰۱ھ الجواب: اتواری بخش، بشیر احمد ولد غلام رسول موضع چٹیا نیاز احمد ڈاکخاندار یا محصل وضلع پیلی بھیت اگر یہ امر واقعہ ہے جو درج سوال ہوا تو حکم شرعی یہ ہے کہ وہ شخص اشتد گنہ گار حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہے اور واقف حال نکاح خواں و گواہان و شر کا ء سب اس کے اس گناہ میں شریک ہیں، ان سب پر تو بہ لازم اور جس کے ساتھ یہ حرام نکاح ہوا، وہ اگر جانتا تھا کہ عورت منکوحہ ہے تو نکاح باطل محض ہوا اور جتنی قربت ہوئی ، خالص زناور نہ نکاح فاسد ہوا اور بعد علم متارکہ وجدائی فرض اور تاخیر گناہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۹ر ذی قعده ۱۴۰۰ھ