تین طلاق کے بعد بے حلالہ نکاح کر لیا کیا حکم ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ: (1) زید نے ہندہ کو طلاق متواتر تین مرتبہ سے زائد دیا۔ تعلقات منقطع رہے۔ ایک صاحب جو صورتاً با شرع نہیں ہیں، انہوں نے یہ کہا کہ مولانا قاری صاحب (مولانا ارشد القادری، جمشید پور) نے فتویٰ دیا ہے کہ اگر مطلق (طلاق دینے والا ) حقوق زوجیت ادا کرنے کے قابل نہیں ہے اور ان سے کوئی اولا د نہیں ہو سکتی ہے تو پھر سے عقد کر دیا جائے۔ اس کی تصدیق ان کی والدہ نے بھی کیا کہ ایسا مسئلہ یہ سامنے نشر کیا۔ لہذا گاؤں ہی کے ایک صاحب جو دیندار ہیں اور امامت بھی کرتے ہیں قادری صاحب کے حوالہ پر اطمینان کر کے نکاح پڑھا دیا۔ جب ان کے سامنے یہ بات رکھی گئی کہ قادری صاحب کے فتویٰ کے بارے میں افتراء ہے، کوئی تحریر نہیں ہے۔ نکاح خواں خود نادم ہیں اور اس گناہ سے تلافی کا راستہ چاہتے ہیں۔ لہذا دریافت طلب جواب یہ ہے کہ نکاح خواں جو بلا سمجھے بوجھے نکاح پڑھا دیا، اُن پر کیا حکم ہے؟ اور جن لوگوں نے فتویٰ کا افتراء کر کے ان کو گمراہ کیا، ان پر کیا حکم ہے؟ اور زید وہندہ کے لئے کیا کرنا چاہئے؟ (۲) ایسے شخص نے اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ دیا اور پھر تعلقات قائم کر لئے ۔ اس کو لوگ مسجد و جماعت ونماز سے روکتے ہیں، اس کے لئے کیا حکم ہے؟ جن لوگوں نے نکاح ثانی میں گواہی شہادت دی ان کے لئے کیا حکم ہے؟ (۳) زید مفلوج ہو چکے ہیں اور حالت بہت زیادہ خراب ہے تو ایسی صورت میں ہندہ زید کی خدمت کر سکتی ہے یا نہیں؟ المستفتی: محمد اسلم صدیقی مقام شیخ پور ضلع فتح پور (یوپی)
الجواب: (1) نکاح خواں و گواہ اور واقف حال ، شرکاء ، سب گنہ گارو مستحق نار ہوئے ،سب پر تو بہ فرض ہے اور زید و ہندہ پر فرض ہے کہ فورا علیحد ہ ہو جائیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وہ سخت گنہگار ہوا، تو بہ کرے۔ جب تک تو بہ نہ کرے، لوگ اس سے میل جول چھوڑ دیں اور اسے امام نہ بنائیں۔ مگر مسجد کی حاضری اور شامل جماعت ہونے سے روکنا ظلم و گناہ ہے جس سے تو بہ فرض ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ہاں! پردہ میں رہ کر خدمت کر سکتی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۱/ جمادی الاخری ۱۳۹۹ھ