نکاح کے مروج طریقہ کار اور اس میں قاضی و وکیل کی گفتگو کا حکم
(وکیل) ہاں! میں نے بحالت درستگی لڑکی سے بزبان فصیح گواہان کے مواجہ بغور اپنے کانوں سے سنا ہے۔ ( قاضی ) فلاں کی بڑی لڑکی ، بکر، جس کا نام فلاں ہے، تشریح سنت کے موافق بزبان فصیح اپنے نکاح کا اذن دیا اور فلاں کو اپنا وکیل مطلق بنایا، آپ حضرات نے بغور اپنے کانوں سے سنا ہے؟ (گواہان ) ہاں، حالت افاتر کی لڑکی نے آپ کو اپنا وکیل مطلق اپنے نکاح کا بنایا ہے، آپ کو اس وقت وکالت کرنا منظور ہے (وکیل) ہاں مجھے، ہاں مجھے وکالت کرنا منظور ہے۔ ( قاضی ) آپ کی جانب سے میرے لئے اب نکاح پڑھانے کی اجازت ہے اور اب نکاح پڑھایا جائے؟ (ولی ) ہاں میری جانب سے اب نکاح پڑھانے کی اجازت ہے اور اب نکاح پڑھایا جائے ۔خطبہ، درود شریف، ایمان مفصل، ایمان مجمل، ایجاب و قبول دین مبر مطلق مثلاً پانچ ہزار روپے سکہ رائج الوقت جملہ اخراجات نان ونفقہ کے علاوہ، فلاں کی وکالت سے فلاں فلاں کی شہادت سے فلاں کی بڑی لڑکی ، بکر ،شرع سنت کے موافق آپ کے نکاح زوجیت میں دی جاتی ہے، آپ نے اپنے لئے قبول کی؟ ہاں اس وقت میں نے اپنے لئے قبول کی ۔ آپ خلاصہ تحریر فرمائیں!
الجواب: المستفتی: اظہر علی صدیقی م مسجد ، موضع و ڈاکخانہ اکبری ، ضلع شاہجہانپور یه طریقه درست ہے مگر قاضی کا وکیل سے پوچھنا کہ تم نے مجھے اجازت دی، بے معنی ہے کہ جب لڑکی سے قاضی کا نام لے کے اذن طلب کیا گیا تو وکیل نکاح وہی قاضی ہے باقی باتیں ٹھیک ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۳ ؍ ربیع الآخر ۱۳۹۸ھ صبح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی