زبردستی نکاح اور غلط کوائف کی صورت میں نکاح کے انعقاد کا حکم
کیا لیکن لڑکی نے اپنی زندگی بچانے کے لئے ایسا کیا کہ لڑکی موقع کی منتظر رہی اور موقع پا کر لڑکی اپنے ماں باپ کے پاس چلی گئی۔ حالانکہ لڑکی اب بھی سنی مذہب کے شریف عزت دار لڑکے کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرنا چاہتی ہے۔ ایسا ممکن ہے یا نہیں؟ جس لڑکے سے نکاح ہوا اس کی خوبیاں درج ہیں: جواری، شرابی اور کچھ برائیاں بھی وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ لڑکے کی ولدیت بھی غلط ہے اور رہنے کی جگہ بھی غلط ہے بجائے محمد علی کے احمد علی اور بجائے سینتھل کے پرانا شہر حتی کہ صرف نکاح میں لڑکی کا نام ٹھیک ہے باقی سب غلط ہے۔ پتہ: منظور فاطمہ ولدمحمدعلی قصبہ سینتھل ضلع بریلی تھانہ حافظ گنج تحصیل نواب گنج ڈاکخانہ خاص محلہ نیب والان بھائی کا نام نزاکت مہندی ولد محمد علی، ماں کا نام کنیز خاتون زوجہ محمد علی ، بہن کنیز فاطمہ دختر محمد علی۔ منظور فاطمه
الجواب: صورت مسئولہ میں لڑکی نے جبکہ زبان سے ایجاب و قبول نہ کیا تو یہ نکاح منعقد نہ ہوا بلکہ اس کی اجازت پر موقوف ہوا بعد میں اگر لڑ کی کسی طرح اس نکاح سے راضی نہ ہوئی بلکہ نا خوش رہی تو یہ نکاح رد ہو گیا۔ اسے اختیار ہے کہ اپنی مرضی سے جس کفو سے چاہے نکاح کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله