پہلی مطلقہ بیوی سے دوبارہ نکاح کی خواہش اور گھریلو مخالفت کا مسئلہ
سیدی مرشدی مدظلہ العالی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۱۸ / جمادی الآخره ۱۴۰۱ھ الحمد للہ! میں خیریت سے رہ کر آپ کی خیریت کا نیک طالب ہوں۔ گزارش خدمت یہ ہے کہ آپ کا یہ ناچیز بندہ عجب کشمکش میں مبتلا ہے۔ آج سے چودہ سال قبل میری پہلی بیوی نے مجھ سے خود ہی اپنی جانب سے طلاق کا مطالبہ کیا تھا اور ہم نے مجبور ہو کر تحریر میں طلاق دے دی۔ جسے چودہ سال ہوئے ، اس کے بعد میں نے دوسری شادی کی ، جس سے چھ بچے ہیں، پہلی بیوی سے ایک لڑکا تیرہ سال کا ہے جو عرصہ چار ماہ سے میرے پاس رہتا ہے، اس سے قبل اپنی ماں کے پاس رہتا تھا۔ میرے سابق سسر کو انتقال ہوئے ایک سال کا عرصہ ہوا۔ میری سابقہ عورت کا کوئی نگراں وسر پرست نہیں۔ بھائی بھاوج دلچسپی نہیں رکھتے ، وہ بہت مجبوری کے دور سے گزر رہی ہے، اس کی مجبوری کے تحت میں عقد ثانی کرنا چاہتا ہوں لیکن میری موجودہ بیوی کا کہنا ہے کہ تم خرچ دے سکتے ہو لیکن عقد ثانی نہیں۔ میرے والد محترم کا مشورہ ہے کہ تم اپنی بہن بنا کر رکھ سکتے ہو،عقدثانی کر کے بیوی نہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ میں دو بیوی رکھنے کے قابل کسی لحاظ سے نہیں۔ آپ ہی بتائیں ایسی صورت میں کیا کروں؟ میں آپ کی نظر عنایت کا محتاج ہوں۔ کیوں کہ مجھے نہ قرآن وحدیث سے اتنی واقفیت ہے نہ ہی علم و شعور ہے۔ میں دس سال تک لڑکے کو مسلسل خرچ دیتا رہا۔ اور اس کی ماں کا
الجواب: اس کو خود اقرار ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ دو بیوی رکھنے کے قابل کسی لحاظ سے نہیں۔ لہذا عقد ثانی سے بچنا چاہئے ۔ خصوصاً جبکہ آپ کے والد محترم کا منشاء بھی یہی ہے تو اس سے باز رہنا اور بھی مؤکد ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ شب ۳ ربیع الآخر ۱۴۰۴ھ