وقت نکاح امر طلاقها بیدھا“ کی قید لگانا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : (1) فی زماننا عموماً شوہر باہر چلے جاتے ہیں، دسیوں سال تک نہ آتے ہیں اور نہ ہی زوجہ کی خبر گیری اور حقوق زوجہ کی ادائیگی کرتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر امور قبیحہ وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ لہذا اگر بوقت نکاح ایجاب وقبول کے کلمات کے ساتھ بشرط ان يكون امر طلاقها بیدھا “ کی قید اس کے معنی و مطلب شوہر کو سمجھا کر لگادی جائے تو عند الشرع جائز ہے کہ نہیں؟ (۲) ایسی صورت میں جس طرح شوہر کو حق طلاق حاصل رہتا ہے، کیا شوہر کے ساتھ ہی زوجہ کو بھی حق طلاق ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا المستفتی : عبدالباری معلم کیراف پرنس ٹیلر گنا دفتر محلہ نوشہرہ، بلرام پور، گونڈہ (یو پی)
الجواب: (1) جائز و مناسب ہے اور اس میں تعمیم وقت بھی کر دیں مثلاً متى شاءت “ بڑھا دیں مگر یہ اختیار دینا جبھی مناسب ہوگا جب اسے معقول شرائط سے مشروط کیا جائے مثلاً شوہر نان ونفقہ نہ دے یا نا جائز کام پر آمادہ کرے یا ایک مدت تک غائب ہو جائے اور اپنا کوئی پتہ نہ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، بریلی شریف