بیوی سے اجازت لئے بغیر دوسری شادی کا حکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید اور ہندہ ایک اسکول میں پڑھتے تھے اور پڑھائی کے دوران زید کو ہندہ سے اور ہندہ کو زید سے محبت ہو گئی۔ دونوں ایک دوسرے کو بے حد چاہنے لگے۔ شادی کا پیغام دونوں کے والدین تک پہونچایا گیا لیکن کسی بنا پر رشتہ طے نہ پاسکا۔ زید اور ہندہ دونوں بالغ ہیں زید گورنمنٹ کا ملازم ہے زید کے ماں باپ نے زید کا نکاح خالدہ سے کر دیا اور ہندہ کے ماں باپ نے ہندہ کا نکاح بکر سے کر دیا۔ چند دنوں کے بعد ہندہ اور بکر میں کسی رنجش کی بنا پر یاکسی اور بنا پر نباہ نہ ہوسکا۔ بکر نے اپنے رشتہ داروں کے سامنے ہندہ کو تین طلاقیں ( یعنی طلاق مغلظہ ) دے دی۔ ہندہ نے بھی راضی برضا اپنا مہر جو بکر پر تھا اسے معاف کر دیا۔ اب عدت بھی گزر چکی ہے اور ایک سال سے ہندہ اپنے میکے میں بیٹھی ہے۔ ہندہ نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ میرا نکاح زید سے کرا دیجئے۔ لیکن زید کے ماں باپ وغیرہ کوئی راضی نہیں۔ زید خودا اپنی ذمہ داری پر ہندہ سے نکاح کرنے کو راضی ہو گیا۔ ہندہ کے باپ و ماموں اس وقت مسجد کے صدر اور خزانچی ہیں۔ ہندہ کے ماں باپ و ماموں نے دیکھا کہ زید اور ہندہ کو گناہ سے بچنے کے لئے دونوں کا نکاح پڑھوا دیا جائے ، زید کے باپ و بھائی عزیز واقارب کا یہ کہنا ہے کہ زید نے اپنی شادی والی بیوی سے بغیر اجازت لئے یہ نکاح کیا۔ شرعاًیہ نکاح نہیں ہو سکا اور ہندہ کے باپ و ماموں جو اس وقت مسجد کے صدر ہیں ، انہوں نے شرعاً خلاف ورزی کی ہے۔ آیا یہ نکاح شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اور صدر اور خزانچی نے شرع کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں؟ جبکہ زید دونوں بیویوں سے برابر کا انصاف کرنے کو تیار ہے اور یہ نکاح شرعاً درست ہوا یا نہیں مع حوالہ قرآن و حدیث جواب عنایت فرما کر ہماری پریشانی کو دور فرمائیں۔ المستفتی: سید نصیر احمد رسیدی خوشیہ مسجد بی ۔ایم ۔ دائی چہر دو اضلع درگ (ایم پی )
الجواب: زید کا نکاح ہندہ سے درست ہوا۔ یہ خیال کہ زید کا نکاح ہندہ سے اپنی پہلی بیوی کی اجازت پر موقوف ہے، غلط ہے اور اس وجہ سے صدر خزانچی کو خلاف شرع کا مرتکب جاننا غلط و باطل ہے۔ البتہ زید کو والدین کی رضا مندی کا خیال ضروری تھا اور ان کی ناراضگی کا خیال نہ کرنا گناہ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۳ رذی قعده ۱۴۰۶ھ