نان ونفقہ کی تعریف، بیمار بیوی کے علاج کی ذمہ داری اور عدل نہ کر پانے کی صورت میں دوسرے نکاح کا حکم
نان ونفقہ میں کون کون سی چیز داخل ہے؟ بیوی کا علاج شوہر پر واجب ہے کہ نہیں؟ بیوی پر جور کا صحیح اندیشہ ہوتو دوسرا نکاح مکروہ اور یقین ہو تو حرام ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین حسب ذیل مسئلہ میں کہ: نکاح کے وقت میں جو نان و نفقہ کا ذکر کر کے ایجاب و قبول کرایا جاتا ہے۔ (1) نان و نفقہ میں کون کون سی چیز داخل ہے اور اس سے کیا مراد ہے؟ (۲) اگر بیوی بیمار ہو جائے تو اس کا علاج کرانا نان و نفقہ میں داخل ہے یا نہیں؟ (۳) اگر بیوی بیمار ہو جائے تو اس کا علاج کرانا شوہر پر واجب ہے یا نہیں؟ (۴) بیوی کے او پر شوہر کی اس اولاد کو جو اسی کی بیوی سے ہے، دودھ پلانا واجب ہے یا نہیں؟ (۵) جو شخص بیوی کے ساتھ عدل نہ کرے، کیا اس کو شادی کرنا جائز ہے؟ قرآن وحدیث اور کتب معتبرہ سے جواب عنایت فرمائیں! المستغنى عبدا كليم کٹوریہ ضلع بھاگلپور (بہار)
الجواب: (1) کھانا، کپڑا، مکان۔ در مختار میں ہے: ”ھی لغة ما ينفقه الانسان على عياله و شرعا هي الطعام والكسوة والسكنى ) واللہ تعالیٰ اعلم (1) الدر المختار، کتاب الطلاق، باب النفقة ، ج ۵، ص ۲۷۸ - ۲۷۵ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) نہیں۔ درمختار میں ہے: (۳) نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم لا يلزمه مداواتها) واللہ تعالیٰ اعلم (۴) شوہر اگر خوشحال ہے تو بیوی پر دودھ پلانا واجب نہیں ورنہ دودھ پلانا لازم ۔ یونہی بصورت خوشحالی شوہر، بیوی ہی اگر دودھ پلانے کے لئے متعین ہو یوں کہ باپ کو کوئی دودھ پلانے والی نہیں ملتی یا بچہ ماں ہی کا پستان قبول کرتا ہو تو بیوی ہی پر دودھ پلا نالا زم ہوگا۔ در مختار میں ہے : " وليس على امه ارضاعه قضاء بل ديانة الا اذا تعينت فتجبر كما مر فی الخصانہ (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۵) اگر واقعی بیوی پر جور کا صحیح اندیشہ ہوتو اسے دوسرا نکاح مکروہ۔ در مختار میں ہے: ،، يكون مكروها لخوف الجور (۳) اور جور کا یقین ہو تو حرام ۔اسی میں ہے: فان تیقنه حرم ذلک (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲۸ / جمادی الاولی ۱۴۰۱ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی