کچہری کی یکطرفہ طلاق کا حکم اور منکوحہ عورت سے نکاح کا معاملہ
کچہری سے جو طلاق ہوئی وہ کوئی چیز نہیں! ضروری بات یہ ہے کہ لڑکے نے طلاق نہیں دی ہے اور لڑکی کے ماں باپ نے لڑکی کی کچہری کے ذریعہ سے طلاق لی ہے اور کچہری میں بھی حج کے سامنے لڑکی لڑکے کی طلاق نہیں ہوئی کسی سورس کے ذریعہ وکیل نے یہ کاغذ تیار کئے ہیں۔ تو کیا طلاق ہو گئی ہے؟ لہذا بات یہ ہے کہ میں نے انجانے میں شادی کر لی ہے میری بیوی کا انتقال ہو گیا اور میری بیوی سے میرے تین بچے ہیں ۔ دوٹر کے، ایک لڑکی۔ جس لڑکی سے شادی کی ہے اس کے بھی دو بچے ہیں مگر ماں کے پاس نہیں ہیں، باپ کے پاس ہیں۔ میری شادی پہلی جنوری کو ہوئی ہے اور میری بیوی کے ایک ماہ کا حمل بھی ہے اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ کا نکاح جائز نہیں تو اس بات پر مجھے حضرت کا جواب چاہئے ۔ اور شادی کے بعد میں کچھ پریشانی میں چل رہا ہوں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سب تم پر عذاب ہے۔ المستفتی: محمد احمد
الجواب: کچہری سے جو طلاق ہوئی وہ کوئی چیز نہیں۔ شوہر نے اگر طلاق نہ دی تو وہ عورت بدستور اس کی منکوحہ ہے اور منکوحہ کا نکاح حرام قطعی ہے۔ صورت مسئولہ میں فی الواقع اگر آپ کو اس کا منکوحہ ہونا معلوم نہ تھا تو نکاح فاسد ہوا۔ اور بعد علم متارکہ وجدائی فرض ہوئی۔ اور تاخیر گناہ۔ فوراً اسے چھوڑ دیجئے (۱) فتاوی رضویہ جلد پنجم صفحه ۴۸۷/۴۸۶، رضا اکیڈمی ور نہ مبتلائے زنار ہیں گے ۔ متارکہ یہ ہے کہ مرد کہے میں نے اسے چھوڑا یا عورت کہے کہ میں اس سے جدا ہوئی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله