نکاح فاسد کے بعد متارکہ، شوہر اول کی طلاق کے بعد دوبارہ نکاح اور ثبوتِ نسب کا حکم
ایک عورت شادی شدہ کے متعلق زید کو معلوم ہوا کہ وہ مطلقہ ہوگئی ہے اس لئے زید نے اس سے اپنا نکاح کرلیا اور تقریب ڈیڑھ سال تک اس سے تعلق رکھا پھر کسی نے کہا کہ اس کی طلاق نہیں ہوئی ہے اس لئے زید نے اس سے تعلق ترک کر دیا۔ پھر تعلق ترک کرنے کے چار ماہ کے اندر ہی عورت مذکورہ کے لڑکا پیدا ہوا جو کہ اس وقت تیرہ مہینے کا ہو گیا۔ اس کے قبل گزشتہ رمضان شریف میں زید کو معلوم ہوا کہ واقعی عورت مذکورہ کی طلاق نہیں ہوئی ہے اس لئے زید نے ایک کاغذ پر لکھا کہ میں نے عورت تم کو طلاق دی طلاق دی طلاق دی۔ اور وہ کاغذ لے جا کر عورت کو دیا یہ بتا کر کہ میں نے اس پر ایسا لکھا ہے۔ عورت نے وہ کاغذ ہاتھ میں نہیں پکڑا اس لئے زید کا غذ و ہیں زمین پر رکھ کر چل دیا۔ عورت مذکورہ نے آگ لگا کر کاغذ پر رکھ دیا ، کاغذ جل گیا۔ اور اب یہ معلوم ہوا ہے کہ عورت کے شوہر اول کو اس بستی والوں نے بلا کر اس سے طلاق لیا ہے عورت مذکورہ کے کوئی نہیں ہے سوائے ایک ماں کے۔ اب ماں یہ چاہتی ہے کہ عورت مذکورہ کی شادی کسی اور جگہ کر دوں مگر عورت کا قصد ہے کہ میں زید ہی کے ساتھ رہوں گی ۔ اس میں شرع شریف کا کیا حکم ہے؟ آیا عورت مذکورہ سے زید مذکور پھر نکاح کر کے رکھ سکتا ہے یا کہ نہیں؟ اور لڑ کا مذکورہ حرامی کہا جائے گا یا کہ حلالی؟ جواب مفصل عنایت فرمائیں۔ اللہ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے ۔ آمین
الجواب: المستفتی: حکیم منیراحمد، ڈالا مرزاپور، (یوپی) اگر واقعی شوہر اول نے طلاق دے دی ہے اور عدت گزر چکی تو زید کو اس سے نکاح حلال ہے کہ زید کا اس عورت سے پہلا نکاح فاسد ہوا تھا اور نکاح فاسد میں طلاق حقیقہ متارکہ ہے جس سے عدد طلاق کم نہیں ہوتا لہذا وہ تین طلاقیں جو اس نے اسوقت دیں واقع نہ ہو ئیں اگر چہ متارکہ وجدائی ہوگئی اور بچہ دوسرے شوہر کا قرار پائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۵ محرم الحرام ۱۴۰۴ها سوار برگشتی، باسی، پورنیه صح الجواب ! کہ نکاح فاسد میں نسب ثابت ہو جاتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی