دوسری شادی کے لئے مرد کو پہلی بیوی سے اجازت لینا ضرور نہیں !
جناب قبلہ حضرت مولانا صاحب ! السلام علیکم گزارش ہے کہ زید نے اپنی پہلی بیوی سے جس کی طلاق نہیں ہوئی اور نہ اس سے اجازت لی اور دوسری عورت سے نکاح کر لیا اور قاضی نکاح خواں کو بالکل علم نہیں ہوا۔ بعد نکاح قاضی صاحب کو معلوم ہوا کہ زید نے اپنی پہلی بیوی سے نکاح کی اجازت نہیں لی۔ قاضی صاحب کو دھو کہ ہو گیا تو وہ بہت پریشان ہیں کہ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی تو انہوں نے آپ کے پاس یہ تحریر بھجنے کو کہا تو میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ عقد شرع کے لحاظ سے غلط ہے کہ صحیح ہے؟ آپ براہ کرم مناسب سمجھ کر اس کا جواب دیجئے، عین نوازش ہوگی کیونکہ قاضی صاحب اپنی غلطی پر بہت پریشان اور الجھن میں ہیں۔ بقیہ سب خیریت ہے! امستفتی: قبول احمد، گرام قاضی پور، پوسٹ افضل پورواری ضلع الله آباد
الجواب: عقد صحیح ہوا۔ دوسری شادی کے لئے مرد کو پہلی بیوی سے اجازت لینا ضرور نہیں نہ اس وجہ سے عقد کی صحت پر کچھ اثر پڑے گا اور نہ قاضی پر اس وجہ سے الزام ۔ عقد صحیح ہے جبکہ موانع شرعیہ نہ پائے گئے ہوں ۔ دھوتعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲ رصفر المظفر ۱۴۰۸ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی