نکاح، طلاق، مفقود الخبر عورت اور دیگر متفرق فقہی مسائل
(۸) جو قاضی کا فر ہو گیا اب دوسرا قاضی نکاح پڑھاتا ہے تو قاضی ثانی کو قاضی مرتد کی اجازت نکاح پڑھانے کی لینا چاہئے یا بغیر اجازت نکاح پڑھانا درست ہے، عوام میں مشہور ہے کہ بغیر اجازت قاضی نکاح پڑھانا جائز نہیں ہے۔ (۹) ایک قاضی کو نکاح پڑھانے میں جو روپیہ ملتے ہیں وہ اپنے خرچ میں لاتا ہے۔ اور مسجد کے خرچ کے لئے کچھ نہیں دیتا ہے۔ دوسرا قاضی یا امام نکاح پڑھاتا ہے اور جو روپیہ ملتے ہیں ان میں سے آدھا یا ایک تہائی یا ایک چوتھائی روپیہ مسجد کے خرچ کے لئے دیتا ہے تو اب نکاح پڑھانے کا زیادہ مستحق قاضی اول ہے یا قاضی ثانی ہے؟ (۱۰) عورت بغیر طلاق بے اجازت شوہر کے مکان سے چلی گئی، کچھ عرصہ کافروں میں رہی، کچھ عرصہ مسلمانوں میں رہی۔ اسی مدت میں حمل ہو گیا اور اب کسی مسلمان نے اس پر قبضہ پالیا تو یہ اب نکاح کر سکتا ہے یا نہیں ؟ قاضی گواہ و وکیل و حاضرین کے لئے کیا حکم ہے؟ اور شوہر اول بھی آگیا اور رجوع کرنا چاہتا ہے مگر یہ مسلمان عورت کو دیتا نہیں ہے۔ تو کیا حکم شریعت مطہرہ ہے؟ (۱۱) عورت مفقودہ پر قبضہ پالیا۔ اب عدت اور نکاح ثانی کی حاجت ہے؟ یا بغیر نکاح حلال ہے؟ اور عورت کے حرام کا حمل بھی ہے۔ (۱۲) لونڈی باندی سے بغیر نکاح ہمبستری و جماع جائز ہے یا نہیں؟ (۱۳) اگر طلاق میں کنایہ کے لفظ بولے تو طلاق واقع ہو جائیگی یا نہیں؟ عوام کہتے ہیں کہ لفظ کنایہ سے طلاق واقع نہ ہوگی۔ (۱۴) نماز نفل کی نیت میں رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام مبارک لینا چاہئے یا نہیں؟ تراویح کی نیت میں وقت کا نام لینا چاہئے یا نہیں؟ المستفتی: محمد اظہر علی صدیقی سنی حنفی ، ساکن موضع اکبری مضلع شاہجہان پور (یوپی)
الجواب: (۳،۲،۱) صورت مسئولہ میں جبکہ عورت غیر کی منکوحہ ہے، اس کا نکاح غیر سے تاوقتیکہ شوہر طلاق نہ دے یا مر نہ جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے، جائز نہیں۔ عورت اگر یہ نام کا نکاح کرے گی ، زانیہ ٹھہرے گی، اشد گنہگار مستوجب عذاب نار حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہوگی۔ پھر غیر اگر واقف حال ہو کر اس سے نکاح کرے گا وہ بھی اسی کے ساتھ ایک رسی میں بندھے گا۔ اور اس نکاح نام نہاد سے جو قربت ہوگی، خالص زنا اور اس سے جو اولاد ہوگی حرامی ہوگی۔ اور اگر شوہر واقف حال نہ ہو تو یہ نکاح فاسد ہوگا اور بعد علم متارکہ فرض یعنی وہ فوراً اسے چھوڑ دے یونہی سب حاضرین جبکہ واقف حال ہوں، زنا کے مددگار، اشد گنہ گار ہوں گے۔ قال تعالى : {وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاء - الآية } (1) یعنی حرام ہیں شوہر والی عورتیں۔ اور اس تدبیر سے کہ اپنے ہاتھوں عورت طلاق لکھ کر کچہری میں داخل کرے اور فیصلہ تفریق کا حاصل کرے، ہرگز شرعاً غیر کو حلال نہ ہوگی بلکہ جھوٹ کا وبال بھی اس کے سر پر ہو گا۔ چھٹکارے کی یہ صورت نہیں کہ خود طلاق لکھ دے نہ اس کی دیکھی ہوئی پڑے۔ قال تعالى : { بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاح (2) شوہر کے ہاتھ ہی میں نکاح کی گرہ ہے۔ بلکہ چھٹکارے کی صورت یہ ہے کہ مال سے یا بے مال کے شوہر کی رضا ورغبت سے یا حاکم وغیرہ کے اکراہ سے زبانی طلاق حاصل کر لے پھر بعد عدت وہ مختار ہے، عدت کے اندر ہر گز نکاح کا ارادہ بھی نہ کرے۔ {وَلا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ الآية } (۳) آزاد کی بیع باطل ہے خواہ مرد ہو یا عورت، بائع ومشتری دونوں گنہ گار ہیں ۔ بائع پر واجب ہے کہ وہ اس نام کے مشتری کو روپیہ واپس کرے، نکاح کا حکم معلوم ہو چکا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵،۴) غیر کی منکوحہ یا معتدہ آزاد عورت کو خریدنے والا یا اس کو بطور ہبہ قبول کرنے والے گنہگار ہیں۔ واقف حال ہوتے ہوئے نکاح باطل محض ورنہ فاسد اور بعد علم متارکہ فرض اور اسے اپنے شوہر کو دینا۔ (1) سورة النساء:۲۴ (2) سورة البقرة : ۲۳۷ (3) سورة البقرة:۲۳۵ لازم ۔ گواہان و وکیل واقف حال کا بھی وہی حکم جو گز را۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) استغفر اللہ العظیم ۔ قاضی حرام نکاح پڑھا کر محض گنہ گار ہے اور بڑا گنہ گار ہے جبکہ واقف حال ہو، کافر مرتد اس وقت تک نہ ہوگا جب تک کہ اسے حلال نہ جانے اور اگر قاضی کے متعلق یہ ثابت ہو کہ اس نے نکاح حرام کو حلال کہا جب تو خیر ورنہ اسے کا فر و مرتد کہنے والوں پر تو بہ لا زم اور اگر واقعی اسے کافر سمجھیں تو تجدید ایمان بھی لازم ہے۔ حدیث میں ہے: ” قال لاخيه يا كافر فقد باء به احدهما ان كان كما قال والا رجعت علیه ) واللہ تعالیٰ اعلم (۷) عدت نہ گزری ہو تو رجعت کر سکتا ہے جبکہ صریح الفاظ سے طلاق دی ہو اور اگر کنایہ سے دی تو عدت کے اندر خواہ عدت کے بعد نکاح کر سکتا ہے اور بعد عدت بہ رضائے زن نکاح کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) ایک قاضی کو دوسرے قاضی کی اجازت ضرور نہیں۔ مگر یہ کہ قاضی محلہ ہو کہ وہاں اکثر نکاح وہی پڑھاتا ہے تو بغیر اس کی رضا کے نکاح دوسرا نہ پڑھائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) مستحق وہی ہے جو صحیح طور پر نکاح پڑھائے۔ اور دونوں ہوں تو اس قاضی سے جو مسجد میں روپیہ دیتا ہے، پڑھوانا بہتر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۰) ہرگز نہیں۔ وہ نکاح محض باطل ہوگا۔ جو واقف حال شریک ہوں گے، گنہ گار ہوں گے۔ اس پر تو بہ لازم ہے کہ اس عورت کو اس کے شوہر کو دے ورنہ شرعاً قطع تعلق کا مستوجب ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (11) نہ نکاح ثانی ضرور نہ عدت درکار ۔ وہ ہنوز اس کی زوجہ ہے، مفقود ہونے سے نکاح ختم نہ ہو گیا۔ ہاں تا وضع حمل دوائی ناجائز ہیں ۔ کمافی الدر المختار اللہ تعالیٰ اعلم (۱۲) جائز ہے۔ مگر اب یہ کہاں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۳) کنایہ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے جبکہ نیت طلاق ہو یا مذاکرہ طلاق ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۴) نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔ تلفظ نیت کچھ ضرور نہیں۔ ہاں جمع عزیمت کے لئے علماء نے مستحب فرمایا ہے۔ نیت نفل میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام لینے میں حرج نہیں بلکہ بہتر ہے۔ تراویح جامع الاصول الفصل الاول في ذم اللعنة واللاعن مکتبه دارالبیان، بیروت میں وقت کا نام لینا ضرور نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر مصطفی رضا خاں قادری غفرلہ