اگر نکاح شرعی طور پر نافذ ہوا ہے تو عورت بے طلاق وانقضائے عدت دوسرا نکاح نہیں کر سکتی
(۱) زید نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی ، شادی کے بعد آٹھویں مہینہ میں خاتون کولڑ کا تولد ہوا، زید نے خاتون کو لے جا کر سسرال والوں کے حوالہ کر دیا اور کہا کہ پیڑ کا میرے نطفہ کا نہیں، لڑکا اندازاً ایک مہینہ زندہ رہ کر مر گیا۔ اب زید کا کہنا ہے کہ میرا نکاح نہیں ہوا۔ اور دوبارہ نکاح پڑھا کے میں اپنی بیوی کو لے جاؤں گا۔ مسئلہ کیا کہتا ہے؟ (۲) خاتون کہتی ہے مجھ پر غلط بہتان باندھا ہے ، سارے خاندان میں میرے ماں باپ کی عزت پر داغ لگایا ہے۔ایسے خاوند کے ساتھ رہنے سے تو مرنا بہتر ہے، جب خاوند کہتا ہے کہ میرا نکاح نہیں ہوا تو اب میری بھی مرضی ہے کہ مجھے ایسے خاوند کی ضرورت نہیں ۔ مسئلہ کیا کہتا ہے؟
الجواب: المستفتی: حمید اللہ مسجد پنڈ واڑہ ،ضلع سروہی ( راجستھان) (1) صورت مسئولہ میں وہ بچہ شر عازید ہی کا بچہ قرار پائے گا، جب تک طریق شرعی سے شوہر نسب کو منتفی نہ کر دے محض اس کے یہ کہنے سے کہ : یہ لڑکا میرے نطفہ کا نہیں ہے نسب منتفی نہ ہوگا۔ زید کا یہ کہنا کہ میرا نکاح نہیں ہوا، تفصیل طلب ہے۔ تحریر کیا جائے کہ وہ ایسا کیوں کہ رہا ہے۔ اگر کوئی وجہ شرعی مانع نکاح ہے تو بتائے ورنہ اس کی مہمل بات ہے اور اعادہ نکاح کی حاجت نہیں ہے۔ زانیہ حاملہ سے نکاح جائز ہے، بعض نا واقف اس سے نکاح کو حرام جانتے ہیں، اگر اس بنا پر وہ یہ کہہ رہا ہے کہ میرا نکاح نہیں ہوا تو یہ اس کی غلہ نہی ہے حمل کی اقل مدت چھ ماہ ہے ، نکاح سے چھ ماہ بعد کچھ پیدا ہوا تو وہ شوہر کا مانا جائے گا۔ لہذا شرعاوہ بچہ اسی کا ہے، بے ثبوت شرعی اسے ولد الزنا بتا نا حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اگر نکاح شرعی طور پر نافذ ہوا ہے اور ظاہر یہی ہے تو عورت بے طلاق وانقضائے عدت دوسرا نکاح نہیں کر سکتی ۔ اگر زید سے رکھنا نہ چاہتا ہو تو طلاق دے دے تا کہ وہ بعد عدت دوسرے سے نکاح کرلے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۹۸ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی