لڑکی کو رخصت نہ کر کے دوسری جگہ نکاح کردیا گیا تو کیا حکم ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید نے اپنی لڑکی کا نکاح ایک مسلمان لڑکے سے کرایا تھا کچھ آپسی معاملات کی وجہ سے لڑکی والدین کے گھر چلی آئی ہے۔ لڑکے کے گھر والے لڑکی کو لینے آئے تو لڑکی کے والدین نے نہیں بھیجا اور لڑکی کے والدین نے بغیر لڑکے کے طلاق دے لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کر دیا اور لڑکی کے والدین نے کہا کہ ہم نے کچہری سے طلاق لے لی ہے۔ تو حضور کیا کچہری کی طلاق طلاق ہے یا نہیں؟ زید کے یہاں کھانا، پینا کیسا ہے؟ اور جن لوگوں نے بغیر طلاق کے لڑکی کی گواہی دی ہے، ان کا کیا حکم ہے؟ اس کا جواب حضور مع حوالہ اطلاع فرمائیں! المستفتی: محمد سلیم رضوی قادری توپ خانہ گاڑی جیل کے پیچھے، کچہری روڈ ضلع گونڈہ
الجواب: کچہری کی طلاق شرعاً کوئی چیز نہیں۔ طلاق کا حق شوہر کو ہے۔ لحدیث ابن ماجہ: ،، انما الطلاق لمن اخذ بالساق (۱) و کذافی الدر المختار (۲) اس نام کی طلاق سے عورت آزاد نہ ہوئی بلکہ وہ اسی شوہر کی بیوی ہے اور منکوحہ کا دوسرے سے نکاح حرام قطعی ہے۔ قال تعالیٰ: وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاء - الآية } (۳) یعنی تم پر شوہر والیاں حرام ہیں۔ لہذا وہ نکاح کرنا حرام تھا جس کے دانستہ مرتکب اور اس کے واقف حال شر کا ء سب کے سب اشد گنهگار مستوجب نار ہوئے ، ان سب پر تو بہ فرض ہے اور جس کے ساتھ یہ نام کا نکاح ہوا، اگر اسے معلوم تھا کہ عورت منکوحہ غیر ہے جب تو یہ نکاح اصلا نہ ہوا اور جتنی قربت ہوئی ، خالص زنا۔ ورنہ نکاح فاسد ہوا اور بعد علم متارکہ وجدائی فرض اور تاخیر گناہ۔ متارکہ یہ ہے کہ مرد کہے: میں نے تجھے چھوڑا۔ یا عورت ہی کہے: میں تجھ سے جدا ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۳ رذی قعده ۱۴۰۹ھ (1) سنن ابن ماجه، ابواب الطلاق باب طلاق العبد، ص ۱۵۱ ، فیصل پبلیکیشنز، کنز العمال في سنن الاقوال والافعال ، ج ۹، باب کتاب الطلاق حدیث نمبر ۲۷۷۷۶، مطبع دار الكتب العلمية بيروت (۲) الدر المختار، کتاب الطلاق، ج ۴، ص ۴۵۰ ، دار الكتب العلمية بيروت (۳) سورة النساء: ۲۴