بیوی از خود چلی گئی دو مختلف لوگوں سے نکاح کیا پھر شوہر اول کے پاس آگئی، کیا حکم ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کی بیوی بغیر طلاق کے زید کے یہاں سے چلی گئی اور بغیر طلاق کے اس نے شادی کر لی شوہر ثانی کے پاس چند برس رہی کچھ دنوں کے بعد شوہر ثانی انتقال کر گیا۔ اس عورت نے پھر تیسری شادی کر لی اور چند برس سے شوہر ثالث کے پاس تھی اس مدت میں دونوں شوہر سے چند بچے بھی پیدا ہوئے۔ اب زید نے شوہر ثالث کے پاس سے پھر بلوالیا۔ اور اپنے پاس رکھے ہوا ہے اس کے ہمراہ ازدواجی زندگی گزار رہا ہے اب زید کی یہ عورت حاملہ بھی ہے۔ دریافت طلب یہ امر ہے کہ زید نے ایسی زانیہ عورت کو واپس کر کے اپنے پاس رکھ لیا، شریعت کا کیا حکم ہے؟ زیدا اپنی بیوی کو رکھ سکتا ہے یا نہیں؟ ہر دو صورت میں مدلل جواب عنایت فر ما یا جائے۔ فقط والسلام امستفتی: محمد نصر الدین ۷۲ ، توت بگان، پوسٹ کمرہٹی ،کلکتہ-۵۸
الجواب: رکھ سکتا ہے۔ (1) رد المحتار کتاب النکاح، ج ۴، ص ۱۱۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت در مختار میں ہے : " لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة ) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳ ذی قعدہ ۱۴۰۳ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم / قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) الدر المختار، کتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراء وغيره، ج ۹، ص ۶۱۱ ، دار الكتب العلمية، بيروت ،